چند لمحوں میں سب کچھ ختم: ہولناک سڑک حادثے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اتر پردیش کے رام پورنینی تال نیشنل ہائی وے پر پیش آنے والے ایک افسوسناک سڑک حادثے نے ہر دیکھنے والے کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس حادثے میں ایک شخص موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ گنج کوتوالی کے علاقے میں پہاڑی گیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں بھوسے سے بھرا ایک ٹرک بے قابو ہو کر سڑک پر موجود مہندرا بولیرو گاڑی پر الٹ گیا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرک پیچھے کی جانب آتے ہوئے اچانک توازن کھو بیٹھتا ہے اور پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
حادثے کے نتیجے میں بولیرو کے ڈرائیور فراست موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ امدادی کارروائی کے بعد ان کی لاش کو ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ودیا ساگر مشرا کے مطابق حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ابتدائی طور پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرک یا تو اوورلوڈ تھا یا موڑ پر تیز رفتاری کے باعث قابو سے باہر ہو گیا۔ حادثے کے بعد ہائی وے پر ٹریفک بھی کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔
اس دلخراش واقعے کے بعد شہریوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قومی شاہراہوں پر نگرانی کا نظام بہتر بنایا جائے، واضح سائن بورڈز نصب کیے جائیں، رفتار کی حد پر سختی سے عمل کرایا جائے اور کمرشل گاڑیوں کی جانچ پڑتال مزید مؤثر بنائی جائے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔