کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز، اورنج لائن کو گرین لائن سے جوڑ دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: سندھ حکومت نے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے کل سے ڈبل ڈیکر بس سروس شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اورنج لائن کو گرین لائن سے منسلک کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا اور اورنگی ٹاؤن میں اورنج لائن ڈپو کا دورہ بھی کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ یہ پاکستان کی پہلی بی آر ٹی سروس ہے جہاں ایک ہی کارڈ کے ذریعے مختلف لائنز پر سفر ممکن ہوگا۔ اب گرین لائن اور اورنج لائن کے مسافروں کو دوہرا کرایہ ادا نہیں کرنا پڑے گا اور ایک ہی کارڈ سے دونوں روٹس پر سفر کیا جا سکے گا۔
نواز شریف کینسر ہسپتال سے پورے پاکستان کے مریض مستفید ہوں گے:عظمیٰ بخاری
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ اس مربوط نظام کے تحت روزانہ ایک لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی جائے۔ شرجیل میمن کے مطابق ڈبل ڈیکر بس سروس کراچی کے شہریوں کے لیے نئے سال کا تحفہ ہے، جسے ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر محدود پیمانے پر شروع کیا جا رہا ہے۔
ڈبل ڈیکر بسیں پہلے مرحلے میں ملیر سے شارع فیصل تک چلیں گی اور ان کا کرایہ پیپلز بس سروس کے برابر رکھا گیا ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈبل ڈیکر بسوں سے سڑکوں پر جگہ بچے گی اور ٹریفک دباؤ میں کمی آئے گی، جبکہ آئندہ مرحلوں میں مزید بسیں بھی شامل کی جائیں گی۔
غیر ملکی مہمانوں کی آمد پر ناقص انتظامات، بادشاہی مسجد کا عملہ عہدوں سے فارغ
شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ ریڈ لائن منصوبے کو درپیش مسائل وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر حل کر لیے گئے ہیں اور وہاں کام دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سندھ نے چار کلومیٹر طویل اورنج لائن منصوبہ بھی بنایا ہے، جبکہ الیکٹرک بسیں بھی کراچی پہنچ چکی ہیں جن کے لیے نئے روٹس متعارف کرائے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔