data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کردار نامناسب انداز میں  دکھائے جا رہے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔

آن لائن غلط معلومات اور ڈیجیٹل شفافیت پر کام کرنے والے غیر منافع بخش ادارے سیفٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کرداروں کو نامناسب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ ویڈیوز لاکھوں لائیکس اور فالوورز حاصل کر چکی ہیں۔

اسپین میں قائم ادارے میلڈیٹا کی تحقیق میں بتایا گیا کہ متعدد ٹک ٹاک اکاؤنٹس کمپیوٹر سے تیار کردہ کم عمر لڑکیوں جیسی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے، جن میں اکثر AI Alive اور دیگر بیرونی اے آئی ٹولز استعمال ہوئے۔ یہ مواد بظاہر حقیقی نہیں ہوتا مگر دیکھنے والوں کے لیے حقیقت کا تاثر پیدا کرتا ہے، جسے ماہرین سنگین مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی ویڈیوز کے کمنٹ سیکشن میں ٹیلیگرام لنکس شامل تھے، جہاں غیر قانونی مواد کی فروخت کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ ادارے نے تمام لنکس اور متعلقہ پلیٹ فارمز کی نشاندہی حکام کو کر دی، تاہم کسی قسم کا فوری ایکشن نہیں لیا گیا۔

ٹک ٹاک کی پالیسی کے مطابق کم عمر افراد کو جنسی انداز میں دکھانا سختی سے ممنوع ہے اور AI سے تیار شدہ ایسا کوئی بھی مواد قابلِ اجازت نہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ خودکار ٹیکنالوجی اور انسانی نگرانی کے ذریعے مواد کی جانچ کرتی ہے۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے 18 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کیں اور 10 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس بند کیے۔

مگر محققین کے مطابق کئی ناقابل قبول ویڈیوز اور اکاؤنٹس ابتدائی طور پر قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آئے، جس سے ماڈریشن کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

ڈیجیٹل ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنریٹو AI کی بڑھتی صلاحیتیں اگر مؤثر نگرانی کے بغیر استعمال ہوں تو بچوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ آسٹریلیا میں سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں تاکہ آن لائن ماحول محفوظ بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے تیار رہے ہیں ٹک ٹاک

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف