ٹک ٹاک پر کم عمر بچیوں کی مشابہت والی اے آئی ویڈیوز کا انکشاف، تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ چین کی معروف ٹیک کمپنی بائیٹ ڈانس کے زیر انتظام دنیا کی مقبول ترین مختصر ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کردار نامناسب انداز میں دکھائے جا رہے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں۔
آن لائن غلط معلومات اور ڈیجیٹل شفافیت پر کام کرنے والے غیر منافع بخش ادارے سیفٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز میں کم عمر بچیوں سے مشابہ کرداروں کو نامناسب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ یہ ویڈیوز لاکھوں لائیکس اور فالوورز حاصل کر چکی ہیں۔
اسپین میں قائم ادارے میلڈیٹا کی تحقیق میں بتایا گیا کہ متعدد ٹک ٹاک اکاؤنٹس کمپیوٹر سے تیار کردہ کم عمر لڑکیوں جیسی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے، جن میں اکثر AI Alive اور دیگر بیرونی اے آئی ٹولز استعمال ہوئے۔ یہ مواد بظاہر حقیقی نہیں ہوتا مگر دیکھنے والوں کے لیے حقیقت کا تاثر پیدا کرتا ہے، جسے ماہرین سنگین مسئلہ قرار دے رہے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی ویڈیوز کے کمنٹ سیکشن میں ٹیلیگرام لنکس شامل تھے، جہاں غیر قانونی مواد کی فروخت کی پیشکش کی جا رہی تھی۔ ادارے نے تمام لنکس اور متعلقہ پلیٹ فارمز کی نشاندہی حکام کو کر دی، تاہم کسی قسم کا فوری ایکشن نہیں لیا گیا۔
ٹک ٹاک کی پالیسی کے مطابق کم عمر افراد کو جنسی انداز میں دکھانا سختی سے ممنوع ہے اور AI سے تیار شدہ ایسا کوئی بھی مواد قابلِ اجازت نہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ خودکار ٹیکنالوجی اور انسانی نگرانی کے ذریعے مواد کی جانچ کرتی ہے۔ 2025 کی دوسری سہ ماہی میں ٹک ٹاک نے 18 کروڑ 90 لاکھ سے زائد ویڈیوز حذف کیں اور 10 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس بند کیے۔
مگر محققین کے مطابق کئی ناقابل قبول ویڈیوز اور اکاؤنٹس ابتدائی طور پر قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آئے، جس سے ماڈریشن کی افادیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ڈیجیٹل ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنریٹو AI کی بڑھتی صلاحیتیں اگر مؤثر نگرانی کے بغیر استعمال ہوں تو بچوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں، جیسے کہ آسٹریلیا میں سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں تاکہ آن لائن ماحول محفوظ بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سے تیار رہے ہیں ٹک ٹاک
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔