میری رہائی کیلئے کوششوں پر قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، علامہ وجدانی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اپنے ویڈیو پیغام میں علامہ غلام حسنین وجدانی نے سعودی عرب کے جیل میں انہیں تمام بنیادی سہولیات میسر تھیں، پاکستانی حکام بھی ملنے آئیں۔ اسلام ٹائمز۔ امام جمعہ کوئٹہ علامہ غلام حسنین وجدانی نے کہا ہے کہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے انہیں سعودی عرب سے گرفتار کر لیا گیا اور 18 دسمبر کو وہ وطن واپس پہنچ گئے۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اپنی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے علامہ وجدانی نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں جدہ جیل میں رکھا گیا۔ ساڑھے سات مہنے بعد وہاں سے رہا ہوئے اور 15 دن جدہ میں ہی ایک دوسری جیل میں رکھا گیا، جہاں سے ڈپورٹ کیا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ باعزت بری ہوکر بخیر و عافیت پاکستان آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکام کے سوالات سے مجھے اندازہ ہوا کہ کوئٹہ سے ہی میرے مخالفین نے سعودی حکام کو غلط رپورٹ دی تھیں، جس کے نتیجے میں وہاں پر مجھے شک و شبہ کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم کوئی بھی جرم ثابت نہیں ہوا۔ امام جمعہ کوئٹہ نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ہی انہیں بتا دیا گیا تھا کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شک و شبہ رفع ہو گیا ہے اور آپ اپنے وطن واپس جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان پر سعودی حکام نے کسی بھی قسم کا تشدد نہیں کیا، حتیٰ کہ کسی نے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی۔ جیل کے اندر قیدیوں کے ساتھ حقوق کی بھی رعایت کی جاتی تھیں اور بنیادی ضروریات فراہم تھیں۔ انہوں نے پورے ملک، بلخصوص کراچی، گلگلت اور نگر کے مومنین اور علماء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میری حمایت کی۔ جہاں جہاں وہ آواز اٹھا سکتے تھے، انہوں نے آواز اٹھائی۔ ان کی کوششیں اور دعائیں قبول ہوئیں۔ انہوں کہا کہ کوئٹہ میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مومنین کے بھی مشکور ہیں۔ اسی طرح انہوں نے علمائے کرام کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے علامہ شبیر حسن میثمی، مولانا ناظر عباس تقوی اور مولانا شہنشاہ نقوی، گلگت، نگر میں شیخ مرزا علی نگری، علامہ سید راحت حسین الحسینی، کوئٹہ میں علامہ جمعہ اسدی، علامہ علی حسنین، علامہ محمد کاظم بہجتی و دیگر علماء نے جو کوششیں کیں، ان پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔ بلخصوص علامہ ڈاکٹر محمد موسیٰ حسینی جنہوں نے جدہ میں حج کے موقع پر پاکستانی سفارت خانہ میں جاکر حکام سے ملاقات کی اور میرے بارے میں انہیں بتایا۔
علامہ وجدانی نے کہا کہ بعد ازاں پاکستانی سفارت خانے کا عملہ مجھ سے ملنے جیل میں بھی آیا اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمیں یہ خبر دی گئی ہے۔ خصوصاً سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، جنہوں نے بہت ہی دلیری کے ساتھ سینیٹ میں آواز اٹھائی اور جدہ میں پاکستانی عملے سے رابطہ میں تھے۔ جدہ میں پاکستانی عملے نے راجہ ناصر عباس جعفری کا بھی ذکر کیا۔ انکا مشکور ہوں جنہوں نے ہر قانونی پلیٹ فارم پر میرے حق میں آواز اٹھائی، اور میری رہائی کیلئے کوششیں کیں۔ انہوں نے علامہ سید ساجد علی نقوی اور انکے دوست و احباب کا بھی شکریہ ادا کیا۔ علامہ وجدانی نے کہا کہ کوئٹہ میں مولانا اکبر حسین زاہدی اور علامہ سید ہاشم موسوی اور امام جمعہ رحمت علی رضوانی کو کوششوں اور آواز اٹھانے پر بھی انکا ممنون و مشکور ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وجدانی نے کہا علامہ وجدانی شکریہ ادا نے کہا کہ انہوں نے جیل میں
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔