نواب شاہ: سرکاری اسپتال میں دل کا دورہ، مریض فرش پر تڑپتا رہا مگر کوئی مدد نہ ملی
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
نواب شاہ: شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے والے ایک مریض کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا گیا، لیکن اسپتال کے عملے کی جانب سے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس واقعے نے محکمہ صحت کی غفلت اور انتظامی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض کے ساتھ اسپتال کا عملہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر یا نرس موقع پر پہنچا۔ یہ واقعہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے شہر میں پیش آیا، جہاں کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود ایمرجنسی سہولیات غیر فعال ہیں۔
ماہرین صحت اور شہریوں نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔
عوامی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری اسپتال میں بنیادی طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو ایسے ادارے کا وجود سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
محکمہ صحت نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا پر غصہ اور عدم اعتماد کا ماحول واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔