data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نواب شاہ: شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے والے ایک مریض کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا گیا، لیکن اسپتال کے عملے کی جانب سے فوری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس واقعے نے محکمہ صحت کی غفلت اور انتظامی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض کے ساتھ اسپتال کا عملہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر یا نرس موقع پر پہنچا۔ یہ واقعہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے شہر میں پیش آیا، جہاں کروڑوں روپے کے بجٹ کے باوجود ایمرجنسی سہولیات غیر فعال ہیں۔

ماہرین صحت اور شہریوں نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

عوامی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرکاری اسپتال میں بنیادی طبی امداد فراہم نہ کی جائے تو ایسے ادارے کا وجود سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔

محکمہ صحت نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن سوشل میڈیا پر غصہ اور عدم اعتماد کا ماحول واضح طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق