Express News:
2026-06-02@22:28:45 GMT

پریانکا گاندھی کے بیٹے کی مسلم لڑکی سے منگنی؟ شادی کب ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT

بھارت کے بانی رہنما کی پوتی پریانکا گاندھی کے بیٹے نے اپنی اسکول کی دوست آویوا بیگ سے منگنی کرلی۔

کانگریس پارٹی کی سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی اور معروف بزنس مین رابرٹ واڈرا کے صاحبزادے رائہان واڈرا نے اپنی دیرینہ دوست سے منگنی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق یہ منگنی دونوں خاندانوں کی رضامندی اور مکمل حمایت سے طے پائی ہے، جب کہ اس فیصلے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں خاصی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔

پریناکا گاندھی کے بیٹے کی منگیتر کا نام آویوا بیگ ہے جن کا تعلق دہلی کے ایک معروف اور بااثر بیگ خاندان سے ہے۔

آویوا کے والد عمران بیگ ایک جانے مانے مسلم بزنس مین ہیں جبکہ والدہ نندیتا بیگ ملک کی ممتاز ہندو انٹیریئر ڈیزائنرز میں شمار ہوتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ نندیتا بیگ کا کانگریس پارٹی سے پیشہ ورانہ تعلق بھی رہا ہے اور وہ پریانکا گاندھی کی دوست بھی ہے۔

آویوا بیگ نے دہلی کے معروف تعلیمی ادارے ماڈرن اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں انھوں نے او پی جندل گلوبل یونیورسٹی سے میڈیا کمیونیکیشن اور جرنلزم میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔

پیشہ ورانہ طور پر آویوا بیگ فوٹوگرافر، پروڈیوسر اور تخلیقی صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیت بھی ہیں اورAtelier 11 نامی ایک تخلیقی اور فوٹوگرافی پروڈکشن اسٹوڈیو کی شریک بانی بھی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رائہان واڈرا اور اویوا بیگ کے درمیان دوستی کا تعلق سات برس پر محیط ہے۔ وقت کے ساتھ یہ دوستی مضبوط رشتے میں تبدیل ہوئی اور اب دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا ہے۔

آویوا بیگ کے والد عمران بیگ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں ایک ہند خاتون نندیتا سے شادی کی تھی تاہم آویوا بیگ نے کبھی اپنے مذہب کے حوالے کوئی بات نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ پریانکا گاندھی جو ایک سخت گیر ہندو گھرانے سے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن انھوں نے ایک عیسائی بزنس مین سے شادی کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پریانکا گاندھی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق