۔2025کے عالمی تنازعات اور اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سال 2025 کو اگر عالمی سیاست اور امن ِ عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سال انسانی تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں سے ایک سیاہ ترین باب کے طور پرشامل دکھائی دیتا ہے جہاں جدید عالمی نظام، طاقتور اداروں اور بین الاقوامی قوانین کے باوجود جنگ، خونریزی اور تباہی کا سلسلہ رک نہیں سکا۔ اس سال کے دوران غزہ، فلسطین، کشمیر، سوڈان، شام، یمن، لبنان اور یوکرین میں جاری تنازعات نے لاکھوں انسانی جانیں نگل لیں، کروڑوں افراد کو بے گھر کیا اور کھربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا۔ ان تمام بحرانوں کے بیچ اقوام متحدہ، جو عالمی امن کی سب سے بڑی علامت سمجھی جاتی ہے ایک بار پھر عملی طور پر ناکام نظر آئی۔
غزہ اور فلسطین کا المیہ 2025 میں انسانی تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق اکتوبر 2023 سے 2025 کے اختتام تک غزہ میں 80 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور معصوم بچوں کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ کشت وخون کا یہ چنگیزی سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ غزہ کا تقریباً 70 فی صد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، اسپتال، اسکول اور رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔ مالی نقصان کا تخمینہ 40 سے 50 ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں، جنگ بندی کی اپیلیں، انسانی حقوق کی رپورٹس حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے تک سب سلامتی کونسل میں ویٹو کی نذر ہو گئے جس نے اقوام متحدہ کی رہی سہی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ فلسطین کے ساتھ ساتھ کشمیر بھی اقوام متحدہ کی ناکامی کی ایک زندہ مثال ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں لاپتا اور لاکھوں افراد نفسیاتی و معاشی مسائل کا شکار ہیں۔ 2019 کے بعد سے سیاسی گرفت، مواصلاتی پابندیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود کشمیری عوام آج بھی حق ِ خود ارادیت سے محروم ہیں اور ادارہ محض تشویش کے اظہار تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
اسی طرح لبنان میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف ننگی جارحیت کا جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کی روک تھام میں بھی اقوام متحدہ کا کردار محض ایک تماشائی کا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی یہ بے بسی چشم فلک نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ یکطرفہ جنگ اور اس میں کئی ایرانی شہریوں اور عسکری قیادت کی ہلاکت اور بعد ازاں قطر پر میزائل حملوں کی صورت میں بھی دیکھی۔ افریقا میں سوڈان کی خانہ جنگی 2023 سے 2025 کے دوران ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس دو سالہ خانہ جنگی میں اب تک محتاط اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 80 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک قحط کے دہانے پر کھڑا ہے اور مالی نقصان 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ جنگ بندی اور سیاسی حل میں ناکام نظر آتی ہے کیونکہ علاقائی طاقتیں اپنے بیرونی عالمی طاقتوں کی سرپرستی سے اسلحے کی غیر قانونی فراہمی اور مالی تعاون سے اس تنازعے کو مسلسل ہوا دے رہی ہیں جن پر اقوام متحدہ کا کوئی بس نہیں چلتا جس سے یہ آگ بجھنے کے بجائے مسلسل بھڑک رہی ہے۔
شام کی خانہ جنگی کو چودہ سال ہو چکے ہیں۔ اس طویل ترین خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک 5 لاکھ سے زائد افراد جاں بحق اور ایک کروڑ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور احمد الشرح المعروف ابومحمد الجولانی کی سربراہی میں قائم خانہ جنگی کے سب سے بڑے جنگی فریق ہیئۃ تحریر الشام کے برسراقتدار آنے کے باوجود ملک میں علاقائی طاقتیں بشمول اسرائیل شام کی فطری وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی درپے ہیں، واضح رہے کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں جہاں پر وہ پہلے ہی سے غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے، میں شام کی سرحد کے ساتھ ایک خود ساختہ حفاظتی بفر زون قائم کرچکا ہے جب کہ اب اسی طرح کا ایک زون ترکیہ بھی شام کے ساتھ اپنی سرحد پر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد شام میں برسرپیکار کرد حریت پسندوں کو ترکیے کی سرحد سے فاصلے پر رکھناہے۔ جبکہ حال ہی میں امریکا نے ایک بار پھر یہاں داعش کے مبینہ ٹھکانوں کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ اس پس منظر میں ملک کی معیشت تباہ حال ہے اور بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔ متحارب گروپوں کے درمیان اقوام متحدہ کی ثالثی سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کے اختلافات کے باعث بار بار ناکام ہوتی رہی ہے جس سے شام عالمی سیاست کی بساط پر ایک مہرہ بن کر رہ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں یمن کے بحران کو دنیا کا ایک اور بدترین انسانی المیہ قرار دیا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔ اندازوں کے مطابق 3 لاکھ سے زائد افراد براہِ راست یا بالواسطہ یہاں جاری جنگ کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ مالی نقصان 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی کوششوں کے باوجود یہاں مستقل امن ممکن نہیں ہو سکا، جس کی بنیادی وجہ بھی علاقائی طاقتوں کی پراکسی جنگ اور عالمی طاقتوں کے مکروہ مفادات ہیں۔ اسی طرح تین سال سے جاری روس، یوکرین جنگ نے بھی عالمی امن کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ 2022 سے جاری اس جنگ میں اب تک 5 لاکھ سے زائد فوجی و شہری ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس جنگ میں یوکرین کا انفرا اسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا اور مالی نقصان 500 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس عالمی تنازعے کو سلامتی کونسل میں روس کی ویٹو پاور نے اقوام متحدہ کو عملی کردار ادا کرنے سے معذور کررکھا ہے جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے سرد جنگی ماحول میں داخل ہو گئی ہے جس کا ثبوت اکثر یورپی ملکوں کا اپنے دفاعی بجٹوں میں کئی گنا اضافہ کرنا ہے۔
اسی تناظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی میں چار روزہ شدید فوجی کشیدگی نے جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ کنٹرول لائن پر فضائی حملے، میزائلوں کی نقل و حرکت اور جارحانہ بیانات نے ایٹمی جنگ کے خدشات کو جنم دیا۔ اگرچہ یہ کشیدگی مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوئی مگر اس دوران درجنوں فوجی و شہری ہلاکتیں، سرحدی آبادیوں کی نقل مکانی اور دو طرفہ معاشی نقصانات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حیران کن طور پر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس خطرناک ترین مڈبھیڑ کے موقع پر بھی اقوام متحدہ کا کردار ایک بار پھر رسمی بیانات اور تحمل کی بے ضرر اپیلوں تک محدود رہا، حالانکہ یہ تنازع کسی ایک فیق کی معمولی غلطی سے دنیا کو ایٹمی تباہی کے دہانے تک لے جا سکتا تھا۔
اقوام متحدہ کی ان مسلسل ناکامیوں کی بنیادی وجوہات اس کا غیر متوازن ڈھانچہ، سلامتی کونسل میں ویٹو پاور اور بڑی طاقتوں کے مفادات ہیں۔ انسانی جانیں، بین الاقوامی قانون اور اخلاقی اصول اکثر جغرافیائی سیاست کے نیچے دب جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عالمی نظام پر کمزور اقوام کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ ان ناکامیوں کے اثرات عالمی امن کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس بے حسی یا ناکامی کے باعث دنیا میں طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی قانون کمزور پڑ رہا ہے اور ایٹمی جنگ جیسے خطرات حقیقی صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں فوری اور سنجیدہ اصلاحات کرتے ہوئے ویٹو پاور کی حامل پانچ بڑی طاقتوں کی لا محدود اختیارات کو محدود نہ کیا اور انسانی جانوں کو حقیقی ترجیح نہ دی تو 2025 ایک انتباہ نہیں بلکہ آنے والے عالمی انتشار کی تمہید ثابت ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی لاکھ سے زائد مالی نقصان ہو چکے ہیں خانہ جنگی طاقتوں کے کے باوجود ارب ڈالر سے زیادہ کے مطابق چکا ہے کے ہیں بے گھر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔