data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)قیادت میں ایک اہم تبدیلی کے تحت پاکستان کے سب سے بڑے اسلامی بینک، میزان بینک لمیٹڈ (ایم ای بی ایل) نے ڈاکٹر سید عامر علی کو اپنا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تقرری 30 دسمبر 2025 سے نافذالعمل ہوگی جس میں وہ بانی صدر اور سی ای او عرفان صدیقی کی جگہ لیں گے۔ لسٹڈ اسلامی بینک نے منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایک) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔نوٹس میں کہا گیا کہ ہمیں آپ کو مطلع کرنا ہے کہ بانی صدر و سی ای اوعرفان صدیقی کی جگہ ڈاکٹر سید عامر علی کو 30 دسمبر 2025 سے میزان بینک لمیٹڈ کا صدر اور سی ای او مقرر کردیا گیا ہے۔عرفان صدیقی میزان بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔بورڈ آف ڈائریکٹرز نے عرفان صدیقی کی قیادت، انتھک محنت اور ان کی گراں قدر خدمات کا باقاعدہ اعتراف کیا ہے جن کی بدولت میزان بینک قائم ہوا اور ترقی کرکے پاکستان کی کارپوریٹ تاریخ کی ایک عظیم کامیابی اور عالمی اسلامی بینکاری کی صنعت میں ایک نئی مثال بن کر ابھرا۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سی ای او صدر اور

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر