غیر معیاری اشیائے خورونوش کے خلاف موجودہ قوانین ناکام
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) ملکی قوانین جعلی ادویات، دو نمبرا شیائے خورونوش اور عام استعمال کی غیر معیاری اشیاء بنانے والوں کے خلاف مؤثر نہیں ہیں۔ سخت قانون سازی اور بھاری جرمانے فوری طور پر ضروری ہیں۔ اگر عوام کو جعلی انسانی اور زرعی ادویات سے محفوظ رکھا جائے تو صحت بہتر ہوگی، ہیلتھ بل میں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور زرعی پیداوار بڑھے گی، جس سے کروڑوں کاشتکاروں اور صارفین پر مثبت اثر پڑے گا۔ معروف تاجر رہنما اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا کہ نہ صرف جعلی اشیاء بنانے والوں بلکہ ان کی سپلائی، فروخت، درآمد اور برآمد میں ملوث افراد کو بھی سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کم از کم 10سال قید اور 2کروڑ روپے جرمانہ تجویز کیا اور کہا کہ بار بار قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا دگنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے گھی، کوکنگ آئل، پولٹری اور ڈیری مافیا کے خلاف بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ غیر معیاری اشیاء درآمد کرنے والی کمپنیوں کے مال کو یا تو تلف کیا جائے یا واپس بھیجا جائے اور تمام اخراجات کمپنی سے وصول کیے جائیں جبکہ کاروبار کو مستقل طور پر سیل کیا جائے۔ ان کے مطابق زرعی شعبے، ماحول اور عوام کو شدید خطرات سے محفوظ بنانا صرف سخت قانون سازی اور بلا امتیاز عملدرآمد سے ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
رانا فرحان سعید:ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے۔
مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے بند کی تاحال مرمت نہ ہونے سے سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا ہے۔
سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ پانی داخل ہونے سے جانوروں کا چارہ بھی بہہ گیا، جس کے باعث کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
زمینداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری حفاظتی اقدامات، بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ