زمین پر سب سے طویل اندھیرا کب ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
زمین پر ایک صدی کے دوران سب سے طویل مکمل اندھیرا تقریبا 2 اگست 2027 کو ہو گا۔
اس دن مہینے کا چاند سورج کے سامنے پوری طرح سے آ جائے گا جس سے دن کے وقت سورج مکمل طور پر ڈھک جائے گا اور چند منٹ کے لیے مکمل اندھیرا ہو گا۔ اس دوران صرف سورج کا کرونا (corona) نظر آئے گا۔
مکمل اندھیرا تقریباً 6 منٹ 23 سیکنڈ تک رہے گا جو 21ویں صدی میں سب سے طویل اندھیرا ہوگا۔
یہ اندھیرا ایسے مقام پر ہوگا جہاں چاند زمین کے بہت قریب ہوگا یعنی چاند بڑا دکھائی دے گا۔ زمین سورج سے نسبتاً دور ہوگی۔ ان عوامل کی وجہ سے سورج گرہن زیادہ دیر تک رہے گا۔
دن کے وقت چند منٹ کے لیے فضا گہری شام کی طرح ہو جائے گی، درجہ حرارت گرے گا اور سورج کا روشن ہالہ ایک خوبصورت منظر پیش کرے گا۔
یہ غیر معمولی مکمل سورج گرہن یورپ، شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کچھ حصوں میں دیکھا جا سکے گا جیسے اسپین، مراکش، الجیریا، مصر، سعودی عرب، یمن اور صومالیہ
وغیرہ۔
واضح رہے کہ 2186 میں بھی ایک بہت طویل مدتی سورج گرہن ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان سرحد سے دہشتگردی کا خطرہ کے پی میں سرچ آپریشن
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔