لاہور میں بسنت منانے کی اجازت، نوٹیفکیشن جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (صباح نیوز) لاہور میں بسنت 2026ء منانے کی باقاعدہ اجازت دے دی گئی جس کے لیے ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے،بسنت کے دوران صرف منظور شدہ اور معیاری پتنگ بازی کا سامان استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، چرخی کے استعمال پر مکمل پابندی برقرار رکھی گئی ہے جبکہ دھاتی تار، نائیلون، پلاسٹک یا تیز دھار مانجھا مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق شہر میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو منائی جا سکے گی۔ پتنگ بازی کے سامان کی تیاری اور تجارت 30 دسمبر 2025 سے 8 فروری 2026 تک مجاز قرار دی گئی ہے جبکہ عوام کو پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے کی اجازت یکم فروری سے 8 فروری 2026 تک ہوگی۔ انتظامیہ کے مطابق صرف رجسٹرڈ دکاندار ہی پتنگ بازی کا سامان فروخت کر سکیں گے، مینوفیکچررز، ٹریڈرز اور سیلرز کی رجسٹریشن کا عمل 29 دسمبر 2025 سے شروع ہو چکا ہے جو ای- بز ایپ یا basant.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پتنگ بازی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔