سینٹ نے 2025ءمیں46 بلز منظور کیے، 15حکومتی، 31 پرائیویٹ شامل
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
اسلام آباد (رپورٹ: رانا فرحان اسلم) سینٹ نے سال 2025ءمیں چھیالیس (46) بلزمنظور کیے جن میں پندرہ حکومتی بلز جبکہ اکتیس پرائیویٹ ممبر بلز منظور کئے گئے۔ دستور پاکستان میں چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم بھی سال 2025ءمیں منظور ہوئی اہم معاشی اصلاحات عدالتی ترامیم اور ٹیکنالوجی سیکٹر سے متعلق نئی قانون سازی بھی سال 2025ءمیں ہوئی، حکومتی بلز تیزی سے سینٹ سے پاس ہوئے جبکہ ایوان کا کارروائی اور قائمہ کمیٹیز کے اجلاس میں اراکین کی عدم دلچسپی کارفرما رہی، سینٹ اجلاس اور قائمہ کمیٹیز کے اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باعث مختصر دورانیے کے رہے یا ملتوی ہو جاتے تھے جسکی وجہ سے قانون سازی کے عمل کی رفتار متاثر ہوئی۔ سینٹ میں قائدحزب اختلاف ارکان نے شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی سے ایوان کی کارروائی کو متاثر کئے رکھا۔ بعد ازاں کئی اپوزیشن ارکان کیسز کے فیصلوں کے بعد نااہل ہوئے، اپوزیشن لیڈر بھی سزا کیوجہ سے ایوان کا حصہ نہ رہے۔ ایوان نے اراکین پارلیمنٹ (تنخواہ اور الاو نسز) ترمیمی بل 2025ءمنظور کیا جبکہ دیگر بلز میں مہاجرین کی سمگلنگ کی روک تھام (ترمیمی) بل 2025ئ، کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2025ئ، قانون شہادت ترمیمی بل 2025ء،کنگ حمد یونیورسٹی آف نرسنگ اینڈ ایسوسی ایٹڈ میڈیکل سائنس2025ئ، دانش سکولز اتھارٹی بل 2025ئ، دی پیمنٹس آف ویجز (اجرت) ترمیم بل 2025ئ، فیڈرل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2025ئ، پاکستان کونسل برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ترمیمی بل 2025ئ، فوجداری ترمیم بل 2025ئ، صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ ترمیمی بل 2025ءایوان نے منظور کئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔