سینٹ کمیٹی: خسارہ والی ریفائنریز سربراہوں کے مراعاتی پیکجز کی تفصیلات طلب کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 30th, December 2025 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم نے سینیٹر عمر فاروق کی صدارت میں گزشتہ روز پارکو ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ کمیٹی چیئرمین سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ ساحل سمندر پر واقع تین ریفائنریز بتاتی ہیں کہ ہر سال خسارہ ہو رہا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے سالانہ کا منافع بتاتی ہیں۔ سینیٹر قراةالعین مری نے چیئرپرسن کمیٹی کو تجویز پیش کی کہ جو ریفائنریز خسارہ دکھاتی ہیں ان کے سارے افسروں کی تنخواہ اور مراعاتی پیکجز کی تفصیلات طلب کی جائیں، جب ملک کیلئے پیسہ ہی نہیں بنا رہے تو خود کتنا لے جا رہے ہیں ہمیں بھی پتا چلے۔ سینیٹر رانا محمود الحسن نے ایم ڈی پارکو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پرل گیس کمپنی کے باو زر پھٹنے سے کئی ہلاکتیں ہوئی تھیں، کیا اس کا کوئی زرِ تلافی دیا گیا؟ اگر ہاں، تو ہمیں اس حوالے سے کوئی رپورٹ نہیں پہنچی۔ ایم ڈی پارکو نے جواب دیا کہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹر کے باو زر تھے، زرِ تلافی کی ادائیگی کر دی گئی ہے جبکہ تفصیلات اوگرا کو فراہم کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔