غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین، 10 ممالک کا اسرائیل سے امدادی رکاوٹیں ختم کرنےکا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں انسانی بحران بدستور شدید صورت اختیار کیے ہوئے ہے، جس پر 10 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں حائل تمام رکاوٹیں فوری طور پر ختم کرے۔
تل ابیب پر دباؤ ڈالنے والے ممالک میں کینیڈا، برطانیہ، فرانس سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ ان ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ میں 16 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ سرد موسم اور بارشوں نے حالات کو مزید ابتر بنا دیا ہے اور تقریباً 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے۔
مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور یو این آر ڈبلیو اے کو مکمل رسائی دی جائے، رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں کھولی جائیں اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کے لیے سفارتی استثنیٰ ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس قانون کے تحت اسرائیلی کمپنیوں کو انروا کے اداروں کو پانی، بجلی اور مالی خدمات فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس سے قبل انروا نے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کی سخت پابندیوں کے باعث فلسطینی عوام کو خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق غزہ میں ہزاروں خاندان اب بھی غذا، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات سے محروم ہیں کیونکہ انسانی امداد کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔