سلمان خان کی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ پر چین برہم، 2020 کے خونی تصادم کی تلخ یادیں تازہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
بھارتی اداکار سلمان خان کی آنے والی فلم ’بیٹل آف گلوان‘ نے چین میں سخت ردِعمل پیدا کردیا ہے۔ چین نے فلم میں حقائق کو مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید اعتراض کیا ہے، جبکہ بھارت نے اسے فنکارانہ آزادی (Artistic License) قرار دے کر دفاع کیا ہے۔
یہ تنازع ایک بار پھر 15 جون 2020 کو لداخ کے گلوان ویلی میں پیش آنے والے اس خونی تصادم کی یاد دلا رہا ہے، جو سطح سمندر سے قریباً 15 ہزار فٹ بلندی پر، سخت سردی اور تاریک رات میں ہوا۔ اس جھڑپ میں دونوں ممالک کے فوجی آمنے سامنے آئے، جہاں بندوقوں کے بجائے لاٹھیاں اور کیلوں والے ڈنڈے استعمال ہوئے۔
مزید پڑھیں:سلمان خان کی دوستوں کے لیے بھیل پوری بنانے کی ویڈیو وائرل
بھارتی فوج کے مطابق اس تصادم میں 20 بھارتی فوجی شہید ہوئے، جبکہ چین نے ابتدا میں کسی جانی نقصان سے انکار کیا اور بعد ازاں صرف 4 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی۔ تاہم بھارتی فوجی ذرائع اور غیر ملکی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق چینی ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ تھیں۔
آسٹریلوی تحقیقاتی اخبار ’دی کلیکسن‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کم از کم 38 چینی فوجی گلوان دریا میں بہہ کر یا شدید سردی کے باعث ہلاک ہوئے، مگر چین نے باضابطہ طور پر صرف ایک فوجی کی دریا میں ڈوبنے سے ہلاکت تسلیم کی۔
مزید پڑھیں:سلمان خان کی 60ویں سالگرہ پر کھلے عام موٹرسائیکل پر سیر، ویڈیو وائرل
واقعے کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتی فوجی دستے نے ایک چینی خیمہ ہٹانے کی کوشش کی، جسے چین نے مذاکرات کے بعد ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ بعد ازاں جھڑپ اس وقت شدت اختیار کر گئی جب چینی فوجیوں نے بھارتی کمانڈنگ افسر کرنل بی ایل سنتوش بابو کو نشانہ بنایا۔
اس تصادم کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں شدید سردمہری پیدا ہوئی جو برسوں تک برقرار رہی۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ چین نے سرحد پر اسٹیٹس کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی، جبکہ چین نے الزام بھارت پر عائد کیا۔
مزید پڑھیں:سلمان خان کی ’بیٹل آف گلوان‘ کا ٹیزر جاری، فلم کب ریلیز ہوگی؟
حال ہی میں چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے سلمان خان کی فلم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گالوان ویلی چین کے زیرِکنٹرول علاقے میں واقع ہے اور 2020 کی جھڑپ کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ اخبار کے مطابق بالی ووڈ فلمیں محض جذباتی تفریح فراہم کر سکتی ہیں، تاریخ کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
فلم کی ریلیز سے قبل ہی یہ تنازع اس بات کا ثبوت بن چکا ہے کہ گالوان ویلی کا زخم آج بھی دونوں ممالک کے لیے تازہ ہے اور ماضی کا یہ باب اب بھی سفارتی اور سیاسی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Battle Of Galwan china بھارتی اداکار سلمان خان بیٹل آف گلوان چین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی اداکار سلمان خان بیٹل آف گلوان چین سلمان خان کی چین نے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو