سندھ میں سرد موسم کی آمد، کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پہلی بارش ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک کے مختلف شہروں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کے باعث سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
مختلف علاقوں میں بادل برسنے سے موسم مزید خوشگوار مگر سرد ہو گیا ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
کراچی میں موسمِ سرما کی پہلی بارش کا آغاز رات گئے ہوا، آئی آئی چندریگر روڈ، پی آئی ڈی سی، سلطان آباد، ضیاء الدین احمد روڈ اور سول لائنز میں بادل جم کر برسے۔ شاہراہِ فیصل، طارق روڈ، صدر، سولجر بازار، جمشید روڈ اور اطراف کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی، جبکہ سائٹ ایریا، میٹروول اور اورنگی ٹاؤن میں کہیں ہلکی تو کہیں تیز بارش ریکارڈ کی گئی۔ شہر میں کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مزید بارش کا امکان نہیں تاہم صبح کے اوقات میں ہلکی پھوار پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب برف سے ڈھکے پہاڑوں اور ہر جانب پھیلے حسین مناظر نے سیاحتی مقامات کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے۔
ادھر حیدرآباد اور جامشورو میں موسلادھار بارش ہوئی جبکہ دادو، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں بھی بادل برسے۔ کوئٹہ اور گردونواح میں بارش کے باعث 40 سے زائد فیڈرز بند کر دیے گئے جس سے مختلف علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے، سمنگلی روڈ، اسپنی روڈ بروری اور مغربی بائی پاس پر بھی صورتحال متاثر رہی۔ لسبیلہ اور وندر میں بھی بارش ہوئی۔
خیبرپختونخوا کے شہروں پشاور، بنوں اور کرک میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ چند روز تک بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ پنجاب کے مختلف اضلاع لاہور، راولپنڈی اور فیصل آباد میں بھی آج بارش متوقع ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقے چلاس اور گردونواح میں وقفے وقفے سے بارش کے باعث بالائی وادیوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقوں میں میں بھی
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔