چین نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، چینی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن )چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ بیجنگ نے خطے میں استحکام قائم رکھنے کے لیے اہم ثالثی کا کردار ادا کیا، جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے عالمی تجارت میں کشیدگی کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وانگ یی نے بیجنگ میں ایک بین الاقوامی تعلقات کے سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سال عالمی معیشت کے لیے مشکل رہا اور ٹیرف جنگوں نے بین الاقوامی تجارتی نظام کو متاثر کیا۔ اس صورتحال میں چین استحکام کا ستون ہے۔
بھارتی اداکارہ کا کرکٹر سوریا کمار یادیو سے متعلق حیران کن انکشاف
انہوں نے امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے جبکہ ٹکراؤ نقصان دہ ہے۔ انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ وہ چین کے قومی مفادات میں مداخلت نہ کرے، خاص طور پر تائیوان کے معاملے میں، جہاں امریکہ نے 11 ارب ڈالر کا ہتھیاروں کا پیکج منظور کیا ہے۔
چین نے شمالی میانمار، بھارت و پاکستان، تھائی لینڈ و کمبوڈیا میں تنازعات کے حل میں بھی ثالثی کی کوششیں کی ہیں اور ایران کے ساتھ نیوکلئیر ڈپلومیسی کی حمایت کی ہے۔ وانگ نے اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل میں بھی چین کی کوششوں کا ذکر کیا اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی تعاون کا خیرمقدم کیا۔
’’سابق ڈی جی آئی ایس پی آر فیض حمید ، عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے میں سرکاری گواہ نہیں بن رہے ‘‘فیض حمید کے وکیل کا دعویٰ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :