پاکستان نے افغان سرحد سے خوارج کی دراندازی ناکام بنا دی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 30 دسمبر کو افغان سرحد کے قریب ٹورگر پوسٹ پر خوارج دہشتگردوں کی دراندازی کو ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں 40 سے 45 دہشتگردوں میں سے 15 ہلاک اور 20 تا 25 زخمی ہوئے، جس سے ملک میں سکیورٹی فورسز کی چوکسی اور مؤثر کارروائی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان تعلقات میں نرمی؟ افغان علما کا بیان ’حوصلہ افزا مگر ناکافی‘
میڈیا رپورٹس کے مطابق خوارج دہشتگرد گروپ افغان سرزمین سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ فورسز کی بروقت نشاندہی اور کارروائی نے ان کی منصوبہ بندی کو ناکام بنایا۔
پاکستانی سیکیورٹی ادارے ہر خوارج خطرے کے خلاف مستعد ہیں اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل الرٹ ہیں۔ اس کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کو پاکستان میں آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔
افغان سرزمین خوارج کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر کام کرتی ہے، جہاں وہ بلا خوف و خطر سرگرم رہتے ہیں، اور افغان طالبان کی مدد، بھرتی اور محفوظ گزرگاہ کی فراہمی اس خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں کہ دہشتگرد گروپوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہ رہے۔ اس سے خطے میں طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے علاقائی تعاون کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان پاکستان دراندازی دہشتگرد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان دہشتگرد کے لیے
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔