data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایس آئی ایف سی کے اصلاحاتی اقدامات نے پاکستان کے مالیاتی اور سرمایہ کاری کے شعبے کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

پاکستان کی اسلامی مالیاتی مارکیٹ نے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے بے مثال مواقع فراہم کرتے ہوئے خود کو مستحکم مرکز کے طور پر منوایا ہے۔ حکومت کی جانب سے 2025 میں سب سے بڑی سکوک بانڈ کے تاریخی اجرا نے عالمی مالیاتی میدان میں ایک نیا سنگِ میل قائم کیا، جس میں ڈیٹ مینجمنٹ آفس اور جوائنٹ فنانشل ایڈوائزرز کے اشتراک سے 2 کھرب روپے سے زائد کے سکوک بانڈ جاری کیے گئے۔

رواں سال کے دوران 61 سکوک بانڈ مختلف دورانیوں میں جاری کیے گئے، جس میں پاکستان کے پہلے گرین سکوک بانڈ کی تاریخی کامیابی بھی شامل ہے، جو سرمایہ کاروں کی زبردست دلچسپی کے باعث 5.

4 گنا سے زائد سبسکرائب ہوا۔

کلیدی اثاثوں میں پاکستان ریلوے، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی، ایئرپورٹس، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اہم قومی ادارے شامل ہیں۔ 2019 سے 2025 کے دوران سکوک بانڈ کے مجموعی اجرا کا حجم 8.7 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان میں اسلامی سرمایہ کاری اور مالیاتی شعبے میں مضبوط بنیاد، منظم قرضہ حکمت عملی اور واضح مالیاتی روڈ میپ کے باعث اقتصادی ترقی کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مربوط حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی سطح پر مالیاتی اور اسلامی سرمایہ کاری میں مستحکم مقام دلایا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری سکوک بانڈ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل