بلوچستان، تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے ہڑتال پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سرکاری اعلامیہ کے مطابق تعلیمی خدمات کو لازمی سروس قرار دیدیا گیا، جسکے تحت بلوچستان لازمی تعلیمی ایکٹ 2019 کے تحت تعلیمی شعبے میں ہڑتال اور تالہ بندی پر پابندی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان نے سرکاری ملازمین کی جانب سے احتجاج کے پیچ نظر صوبے میں تمام سرکاری اسکولوں میں چھ مہینے کے لئے اساتذہ سمیت دیگر ملازمین کی ہر قسم کی ہڑتال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیہ کے مطابق پابندی بلوچستان لازمی تعلیمی سروس ایکٹ 2019 کی چھ کے تحت کیا گیا ہے۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق تعلیمی خدمات کو لازمی سروس قرار دے دیا گیا، جس کے تحت بلوچستان لازمی تعلیمی ایکٹ 2019 کے تحت تعلیمی شعبے میں ہڑتال اور تالہ بندی پر پابندی ہے۔ جس کے پیش نظر اساتذہ و تعلیمی عملے کی ہڑتال غیر قانونی ہوگی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے عوامی مفاد کے پیشِ نظر تعلیمی سرگرمیوں کا بلا تعطل تسلسل یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کارروائی ہوگی۔ واضح رہے کہ بلوچستان کے سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں صوبے بھر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔