اے سی سی اے (ACCA) مارچ 2026 سے آن لائن امتحانات ختم کر دے گا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
Association of Chartered Certified Accountants (ACCA)نے اعلان کیا ہے کہ مارچ 2026 سے وہ ریموٹ (آن لائن) امتحانات ختم کر دے گا، اس کے بعد امیدواروں کو سیدھے امتحانی مراکز میں آ کر امتحان دینا ہوگا۔
یہ فیصلہ آن لائن امتحانات میں نقل اور بدانتظامی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ACCA کے مطابق، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کی وجہ سے آن لائن نگرانی مشکل ہو گئی ہے۔
اے سی سی اے (ACCA) کی سی ای او، ہیلن برانڈ نے فنانشل ٹائمز (Financial Times) کو بتایا کہ وہ نقل روکنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں، لیکن جو لوگ غلط کام کرنا چاہتے ہیں، وہ تیز رفتاری سے کام کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
یہ تبدیلی اے سی سی اے (ACCA) کے اہم نصاب کی پہلی بڑی اپ ڈیٹ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جس میں اب AI، بلاک چین، اور ڈیٹا سائنس پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
یہ فیصلہ عالمی سطح پر اکاؤنٹنگ شعبے میں بڑھتی ہوئی نقل اور امتحانی اسکینڈلز کے تناظر میں آیا ہے۔ چند بڑے ادارے جیسے PwC، KPMG اور Deloitte نے مختلف ممالک میں لاکھوں ڈالر جرمانے ادا کیے ہیں۔
مثال کے طور پر، 2022 میں EY نے امریکی ریگولیٹرز کو $100 ملین ادا کیے، کیونکہ کئی ملازمین نے اندرونی امتحانات میں نقل کی تھی اور ادارے نے محققین کو گمراہ کیا تھا۔
برطانیہ میں بھی اکاؤنٹنگ ریگولیٹر نے 2022 میں خبردار کیا تھا کہ مختلف کمپنیوں میں امتحانی بدانتظامی کے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں۔ 2024 میں بھی نقل کی رپورٹس میں اضافہ دیکھا گیا، حالانکہ کچھ ادارے اب بھی محدود آن لائن امتحانات کی اجازت دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: این سی سی آئی اے کا نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل کے قیام کا اعلان
اے سی سی اے (ACCA) نے کہا ہے کہ وہ اپنے اہم پیشہ ورانہ نصاب میں پہلی بار 10 سال بعد بڑی تبدیلی کر رہا ہے۔ نئے نصاب میں مصنوعی ذہانت (AI)، بلاک چین، اور ڈیٹا سائنس پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
ہیلن برانڈ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت AI نے اکاؤنٹنٹس کی مہارتوں کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ نئے ACCA ماڈیولز میں ریئل ٹائم سیمولیشنز استعمال کی جائیں گی تاکہ طلبا عملی حالات میں اپنے فیصلے اور پیشہ ورانہ سوچ کا مظاہرہ کر سکیں، نہ کہ صرف سادہ امتحانی سوالات کے ذریعے۔
اے سی سی اے (ACCA) نے کہا ہے کہ وہ اپنے امتحانی نظام کی مضبوطی پر اعتماد رکھتا ہے، لیکن ٹیکنالوجی میں تیزی سے ہونے والی پیشرفت نے ریموٹ امتحانات کو نقصاندہ حد تک پہنچا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ACCA Association of Chartered Certified Accountants اے سی سی اے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے سی سی اے اے سی سی اے آن لائن
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔