ترک صدر کا اسرائیل کو سخت پیغام، صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ناقابلِ قبول قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز

انقرہ (آئی پی ایس) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خود ساختہ جمہوریہ صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے، اور یہ اقدام افریقہ میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے۔
استنبول میں صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو تسلیم نہیں کرتا جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بنے۔
انہوں نے بتایا کہ ترکیہ اور صومالیہ کے درمیان طے پانے والے دو طرفہ معاہدے کے تحت ترکیہ 2026 میں صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں توانائی کے وسائل کی تلاش کے لیے کھدائی کا آغاز کرے گا۔ اس منصوبے کے لیے دو نئے تحقیقی جہاز شامل کیے جائیں گے۔
صدر ایردوآن نے مزید انکشاف کیا کہ ترکیہ نے صومالیہ میں دو طرفہ معاہدوں کے تحت ایک خلائی بندرگاہ قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ماہرین کے مطابق ترکیہ اور صومالیہ کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں اقتصادی ترقی اور توانائی کے شعبے میں نئی پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ اسرائیل کے حالیہ فیصلے پر علاقائی سطح پر ردعمل میں اضافہ متوقع ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ سی ڈی اے پلاننگ ونگ سے بڑی خبر، ڈاکٹر ظفر اقبال ظفر کو 20 سکیل میں ترقی دیدی گئی،نوٹیفکیشن سب نیوز پر سیلاب، آگ، زلزلے اور طیارہ حادثات، 2025 کیوں تباہ کن ثابت ہوا؟ اسلام آباد: گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگوانے کی آج آخری تاریخ، کل سے کارروائیوں کا آغاز نیو ائیر نائٹ: اسلام آباد ٹریفک پولیس کا خصوصی ٹریفک پلان جاری ترکیہ میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، 21 صوبوں میں ایک ساتھ کریک ڈاؤن، سیکڑوں افراد گرفتار TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن