روزانہ استعمال کی جانے والی نئی دوا مٹاپے کے علاج میں اہم سنگِ میل ثابت
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے عالمی طور پر مستند ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے وزن کم کرنے والی معروف دوا ویگووی (Wegovy) کی روزانہ استعمال کی جانے والی گولی باضابطہ طور پر منظور کر دی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ پیش رفت مٹاپے کے علاج میں اہم سنگِ میل تصور کی جا رہی ہے کیونکہ اب مریض انجکشن کے بجائے روزانہ گولی استعمال کر کے بھی وزن کم کر سکتے ہیں۔
ویگووی کی نئی گولی بھی اسی فعال جزو سیمگلوٹائیڈ پر مشتمل ہے جو پہلے سے ویگووی اور ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہونے والے انجیکشن اوزیمپک میں موجود ہے۔ اوزیمپک انجیکشن ہفتہ وار استعمال کی جا سکتی تھی جب کہ نئی گولی روزانہ کی بنیاد پر دی جائے گی، جس سے مریضوں کی سہولت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
کلینیکل آزمائشوں میں ویگووی گولی نے تقریباً وہی نتائج دکھائے جو انجیکشن کی صورت میں حاصل ہوئے تھے۔ 64 ہفتوں کے دوران مریضوں نے اوسطاً 14 فیصد وزن میں کمی دیکھی جب کہ پلیسبو استعمال کرنے والوں میں یہ کمی صرف 2 فیصد رہی۔ کمپنی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ویگووی کی گولی جنوری 2026 سے امریکہ میں ڈاکٹر کے نسخے کے تحت دستیاب ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کی ابتدائی خوراک کی قیمت 149 ڈالر رکھی گئی ہے اور جیسے جیسے خوراک میں اضافہ ہوگا، قیمت میں بھی اضافہ متوقع ہے، تاہم انشورنس رکھنے والے مریضوں کے لیے اخراجات نسبتاً کم رہیں گے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ویگووی کو خالی پیٹ اور پانی کے ساتھ لینا چاہیے اور گولی کھانے کے بعد کم از کم 30 منٹ تک کسی اور چیز کا استعمال یا دیگر دوائیں لینے سے گریز کرنا لازمی ہے۔ یہی شرط ذیابیطس کی دوا ریبیل سس (Rybelsus) کے محدود استعمال کی بڑی وجہ تھی اور اب ویگووی کی گولی کے لیے بھی یہی اصول نافذ ہے۔
ایف ڈی اے کی اس نئی منظوری کے بعد مٹاپے میں کمی کے لیے ادویات کی دوڑ مزید تیز ہو گئی ہے۔ ایک اور امریکی کمپنی کی زیرِ تجربہ گولی اورفورگلیپرون کو موسمِ گرما تک منظوری ملنے کی توقع ہے۔
امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریباً ہر 8 میں سے ایک بالغ فرد GLP-1 گروپ کی کوئی نہ کوئی دوا استعمال کر رہا ہے، جس میں ویگووی، اوزیمپک، زپ باؤنڈ اور مونجارو شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: استعمال کی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔