کراچی کی سڑکوں پر نصف صدی بعد دوبارہ ڈبل ڈیکر بسیں رواں
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں تقریباً نصف صدی بعد ڈبل ڈیکر بسیں دوبارہ سڑکوں پر رواں دواں ہو گئی ہیں، جس سے شہر کے باسیوں کی پرانی یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ڈبل بس سروس کا افتتاح کیا، جو آزمائشی طور پر ملیر سے شاہراہ فیصل تک چلائی جا رہی ہیں۔ افتتاح کے موقع پر وزرا کو بسوں کی خصوصیات اور سہولتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ عوام سے کیے گئے وعدے کو پورا کر دیا گیا ہے ۔ کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا آغاز ہو چکا ہے۔ 2026ء میں شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی پہلے سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں گی ۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کے مطابق ہر سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں گی۔ شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عوام کو سفر کے لیے بہتر ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے اور فی الوقت پیپلز بس میں روزانہ ایک لاکھ مسافر سفر کر رہے ہیں۔ سندھ کے ہر ضلع میں بس سروس کے آغاز کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جب کہ انڈسٹریل ایریا کی سڑکوں کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اورنج لائن اور گرین لائن کے ذریعے کراچی کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے منصوبے جاری ہیں ۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے گی۔
یاد رہے کہ ڈبل ڈیکر بسوں کا شہر کی تاریخ سے گہرا تعلق رہا ہے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں یہ بسیں صدر، بندر روڈ، ایم اے جناح روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں پر چلتی تھیں اور اوپری منزل پر بیٹھ کر سفر شہریوں، خاص طور پر طلبہ اور نوجوانوں کے لیے خوشگوار تجربہ سمجھا جاتا تھا۔
وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک کے دباؤ اور دیکھ بھال کے مسائل کے باعث یہ بسیں آہستہ آہستہ سڑکوں سے غائب ہو گئیں جب کہ بعد میں منی بسوں اور کوچز نے ان کی جگہ لے لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈبل ڈیکر بس کے لیے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔