بیوی میں دلچسپی نہیں تو بچے کیوں؟ مشی خان کا عماد وسیم سے سوال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اداکارہ مشی خان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں وہ کرکٹر عماد وسیم کا نام لیے بغیر ان سے سوال کرتی ہیں کہ جب مردوں کو بیوی میں دلچسپی نہیں ہوتی تو وہ بچے کیوں پیدا کرتے ہیں۔
مشی خان نے وائرل ویڈیو میں کہا ہے کہ ’میرا پاکستانی کرکٹرز، شوبز شخصیات سمیت تمام مردوں سے سوال ہے کہ آپ لوگوں کو جب پتا ہوتا ہے کہ آپ کی اپنی بیوی سے نہیں زیادہ بنتی یا پھر میاں اور بیوی کے درمیان کوئی مسئلہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے آپ ان کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتے۔
facebook.com/hamariwebsite/videos/big-question-by-mishi-khan-if-theres-no-interest-in-the-wife-why-have-children/1363893904947975/
انہوں نے ویڈیو میں مزید کہا کہ ایسے تمام مرد باہر کی عورتوں میں دلچسپی لیتے ہیں، خاص طور پر پارٹیوں میں یا پھر دیگر تقریبات میں جہاں گلیمرس خواتین ان کے اردگرد موجود ہوتی ہیں۔
مشی خان نے سوال کیا کہ جب آپ باہر کی خواتین میں دلچسپی لیتے ہیں تو پھر گھر میں موجود اپنی بیویوں کے ساتھ بچے کیوں پیدا کرنا شروع کردیتے ہیں؟
اداکارہ نے پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کا نام لیے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کی ایک انسان سے نہیں بنتی تو چلیں مان لیتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہوگیا لیکن پھر 2 ، 3 یا 4 بچے ہوجاتے ہیں اور 4 بچوں کے بعد آپ کہتے ہیں کہ ہماری بنتی نہیں ہے اور پھر طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرلیتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ باہر کی خواتین جن کے ساتھ آپ تعلق میں ہوتے ہیں وہ آپ کو اپنے چنگل میں پھنساتی ہیں اور آپ ان کے ساتھ پھنس جاتے ہیں تو پھر اس لیے بیوی سے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل، سابق پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم نے اپنی اہلیہ ثانیہ اشفاق کو طلاق دینے کا اعلان کیا تھا۔
جس کے بعد ثانیہ اشفاق نے بھی سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طلاق کی وجہ عماد وسیم کی مبینہ گرل فرینڈ کو قرار دیا۔
بعد ازاں، عماد وسیم کی مبینہ گرل فرینڈ ڈیجیٹل کریئیٹر اور وکیل نائلہ راجہ نے سابق پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کے بارے میں سخت ردعمل دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں دلچسپی کے ساتھ
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم