بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم اور دو مرتبہ ملک کی قیادت کرنے والی خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکا میں ادا کر دی گئی، جس میں سیاسی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ بنگلادیش کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے میا مانک ایونیو میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس بھی موجود تھے، جبکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سردار ایاز صادق نے خالدہ ضیا کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور پاکستانی حکومت اور عوام کی جانب سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق مرحومہ خالدہ ضیا کو ان کے شوہر اور بنگلادیش کے سابق صدر ضیا الرحمان کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ خالدہ ضیا دو روز قبل ڈھاکا کے ایک اسپتال میں 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ 1991 سے 1996 اور 2001 سے 2006 تک بنگلادیش کی وزیراعظم رہیں اور ملک کی سیاست میں ایک مضبوط اور نمایاں کردار کے طور پر پہچانی جاتی تھیں۔
ان کے انتقال کے بعد بنگلادیش میں سوگ کی فضا ہے، جس کے باعث مختلف سرگرمیاں، جن میں بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے میچز بھی شامل ہیں، ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بنگلادیش کی خالدہ ضیا

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری