عمران خان اپنی سزا بھگتیں گے، کوئی این آر او نہیں ملے گا: گورنر خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف سے مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی زیرِ بحث نہیں آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو اپنی سزا بھگتنا ہوگی اور انہیں کسی قسم کا این آر او نہیں دیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے پیپلز پارٹی سے تاحال کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق اگر واقعی مذاکرات کی کوئی پیش رفت ہوتی تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اس بارے میں بیان دیتے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں بھی اس جماعت نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مذاکرات کی صورت میں بھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی اور انہیں قانون کے مطابق اپنی سزا پوری کرنا ہوگی۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے مفاد کے لیے پورے صوبے کو نقصان پہنچایا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کی عوام اور صوبے کے مسائل پر توجہ دے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کی جماعت کی 16 ماہ کی حکومت کے دوران اتحادیوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا، مگر اس کے بعد 9 مئی جیسے واقعات پیش آئے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاستدانوں کے ذریعے نکلنا چاہیے، مگر پی ٹی آئی کی قیادت کا طرزِعمل تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی جیسے بیانات اور انتشار انگیز پیغامات سامنے آتے ہیں۔
گورنر کے پی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ فیصلے کا اختیار کس کے پاس ہے، کیونکہ خود پی ٹی آئی کے اندر بھی ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی نظر آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پی ٹی آئی میں امپورٹڈ لیڈرز پر کام شروع ہو چکا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے نام سامنے آئے، مگر یہ واضح نہیں کہ ان رہنماؤں کی سیاسی مدت کب تک ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کی روایت رہی ہے کہ جس سے کام ختم ہو جائے، اسے سیاسی طور پر فارغ کر دیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی پی ٹی ا ئی کی مذاکرات کی کہا کہ
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔