ڈیجیٹل اخلاقیات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈاکٹر محمد طاہر القادری
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
منہاج یوتھ لیگ کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ نوجوان سوشل میڈیا کو علم، تحقیق اور مثبت مکالمہ کیلئے استعمال کریں، جھوٹ، نفرت اور فتنہ انگیزی کی بجائے حق اور امن کو فروغ دیا جائے، احترام اور برداشت سے ہی مثبت ڈیجیٹل کلچر فروغ پا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت، اس کے اخلاقی تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ اظہار ہے، جو خیر و شر دونوں کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے، اس لئے اس کا استعمال اعلیٰ اخلاقی اقدار، سچائی اور ذمہ داری کیساتھ ہونا چاہئے۔ وہ منہاج یوتھ لیگ کے ذمہ داران سے گفتگو کر رہے تھے۔ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا رائے عامہ کی تشکیل، تعلیم، دعوت اور اصلاح معاشرہ کا موثر ذریعہ بن چکا ہے، اگر اسے مثبت اور تعمیری مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو یہ علم، شعور اور امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ غیر ذمہ دارانہ اور غیراخلاقی استعمال معاشرتی بگاڑ، نفرت اور انتشار کو جنم دیتا ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس بات پر زور دیا کہ سوشل میڈیا صارفین کو خبر یا معلومات شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کرنی چاہئے، کیونکہ چھوٹی خبروں اور منفی پروپیگنڈے سے نہ صرف افراد بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام ہمیں سچ بولنے، امانتداری اور دوسروں کی عزت و آبرو کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے اور یہی اصول سوشل میڈیا کے استعمال پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا کو وقت کے ضیاع، کردار کشی اور بے مقصد بحث مباحثے کی بجائے علم، تحقیق، کردار سازی اور مثبت مکالمے کیلئے استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل اخلاقیات کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر شائستگی، برداشت اور احترام کو فروغ دینا ہی ایک مہذب اور پر امن معاشرے کی بنیاد ہے، اختلاف رائے کو شائستہ انداز میں پیش کرنا اور نفرت انگیز رویوں سے اجتناب کرنا ہر فر دکی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :