وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ؛ علاقائی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پرتبادلۂ خیال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا پر زور دیاگیا۔
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا، گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلی فونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا۔ انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ٹیلی فونک
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔