نیوایئرنائٹ پر پنجاب پولیس ہائی الرٹ؛ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: نیو ایئر نائٹ پر امن و امان یقینی بنانے کے لئے پنجاب پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے نیو ایئر نائٹ پر لاہور سمیت صوبہ بھر کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق سال نو کی آمد پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں 25 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی پر تعینات ہوں گے۔
419 انسپکٹرز، 1267 سب انسپکٹرز، 2189 اے ایس آئیز، 1408 ہیڈ کانسٹیبلز اور 16977 کانسٹیبلز و دیگر اہلکار ڈیوٹی پر مامور، لاہور میں 5 ہزار سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق لاہور سمیت صوبہ بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کی جائے گی، آئی جی پنجاب نے پولیس کو ہائی الرٹ رہنے، ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ نیو ایئر نائٹ پر ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ، ہلڑ بازی کی ہر گز اجازت نہیں، ہلڑ بازی، خواتین اور شہریوں کو تنگ کرنے والے شرپسند عناصر حوالات جائیں گے۔
آئی جی پنجاب نے نیوز ایئر نائٹ پر ٹریفک کے مربوط انتظامات یقینی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ ڈولفن سکواڈ، پیرو، ایلیٹ فورس، پی ایچ پی ٹیمیں سڑکوں اور شاہراہوں پر پٹرولنگ بڑھائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایئر نائٹ پر پنجاب پولیس
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔