الوداع2025 ، نئے سال پر آتشبازی ،آسمان قوس قزح کے رنگوںمیں نہا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان سمیت دنیا بھر میں نئے سال کا کاؤنٹ ڈاؤن ۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں نئے سال کے استقبال کے لیے جشن کی تیاریاں جاری ہیں۔2026 کا سورج سب سے پہلے نیوزی لینڈ کے اُفق پرطلوع ہو گا، پاکستانی وقت کے مطابق آکلینڈ میں آج شام 4 بجے اور سڈنی میں شام 6 بجے نئے سال کو خوش آمدید کہا جائے گا۔سال نو پر لاقانونیت میں ملوث افراد کو سیف سٹی کیمروں سے پکڑیں گے: روایتی کاؤنٹ ڈاؤن کے ساتھ بڑی تعداد میں جمع لوگ نئے سال کے لیے دعائیں مانگیں گے اور اپنے پیاروں کو مبارکباد دیں گے۔
دبئی کے بُرج خلیفہ پر رات 12 بجے، نیویارک کے ٹائم اسکوائر پر رات 2 بجے جبکہ لندن اور پیرس میں کل صبح 4 بجے سال نو کا جشن ہو گا۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں نیو ایئر ٹی پارٹی پر روایتی اوپرا پیش کیا جائے گا۔اسلام آباد، کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں سال نو پر جشن کی تیاریاں جاری ہیں، مختلف مقامات پر آتش بازی کا مظاہرہ کرکے سال نو کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
رات 12 بجتے ہی کراچی میں گورنر ہاؤس سندھ میں آتش بازی کی گئ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔