2025 میں کونسی ڈیوائسز کی اپ ڈیٹس روک دی گئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
سال 2025 اسمارٹ فونز کے حوالے سے کافی مصروف سال رہا۔ ساتھ ہی اس سال بہت سارے موبائل فونز کے لیے اپ ڈیٹس روک دی گئی ہیں۔
ان میں درج ذیل ڈیوائسز شامل ہیں:
ایل جی
ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی نے خراب سیلز کی وجہ سے 2021 میں موبائلز بنانا بند کر دیے تھے لیکن کمپنی نے جون 2025 تک صارفین کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری رکھی ہوئی تھیں۔ تاہم، 30 جون کو اپ ڈیٹس کے سرورز کو بند کر دیا گیا۔
آئی فون
مزید پڑھیںگوگل نے صارفین کو شرمندگی سے بچانے کیلئے اہم فیچر متعارف کرادیا
برطانیہ کی ایپل اور گوگل سے فحش مواد دکھانے سے روکنے کی تجویز
ایپل اپنے آئی فون ماڈل کی ریلیز کے بعد عرصے تک سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کرتا ہے۔ تاہم، اس سال ایپل نے اپنے فرسٹ جنریشن آئی فون ایس ای کو کمپنی کی ’آبسلیٹ‘ (پرانی ہوجانے والی ٹیکنالوجی) کی فہرست میں رکھ دیا ہے۔
سام سنگ
سام سنگ کی جانب سے 2025 میں متعدد ڈیوائسز کے لیے سپورٹ ختم کر دی گئی۔ 2025 میں گلیکسی ایس 20 کی مکمل سیریز نے اپنی حتمی اپ ڈیٹ موصول کی۔ ان ڈیوائسز میں گلیکسی ایس 20، ایس 20+، ایس 20 الٹرا اور ایس 20 ایف ای شامل ہیں۔
ان کے علاوہ گلیکسی نوٹ 20 اور نوٹ 20 الٹرا کی سپورٹ بھی ختم کر دی گئی۔ جبکہ گلیکسی اے 02 ایس اور گلیکسی اے 12 کے لیے بھی اپ ڈیٹس روک دی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔