Express News:
2026-07-24@02:30:05 GMT

بنگلہ دیش میں بڑھتا ہوا بحران

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

 ڈھاکا کی سڑکوں پر صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ دائیں بازو کے طالب علم رہنما کے قتل کے بعد ہجوم نے اخبارات کے دفاتر پر حملے کیے۔ بنگلہ دیش کے معروف اخبارات ڈیلی اسٹار اور Prothom کے دفاترکو گروہوں نے گھیر لیا۔

ان اخبارات کی عمارتوں کو نذرِآتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس اور فائر بریگیڈ کا عملہ بہت دیر بعد صحافیوں کی مدد کے لیے پہنچ پایا۔ ان اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کو جن میں خواتین بھی شامل ہیں، قریب کی عمارتوں کے ذریعے نکالا گیا۔

ڈیلی اسٹار کے ایڈیٹر محفوظ انعام نے صورتحال کی سنگینی کا ذکرکرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان دونوں اخبارات کے صحافیوں کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اخبارات کے دفاترکو بموں سے اڑا دیا جائے گا اور صحافیوں کے گھروں پر حملے ہوں گے۔ 

بنگلہ دیش کی ایڈیٹرزکونسل اور بنگلہ دیش کے اخبارات مالکان کی تنظیم (NOAB) کے تحت اخبارات پر حملوں کے خلاف احتجاجی مارچ کا ٹائیٹل bangladesh under the attack of abundance تھا۔

بنگلہ دیش کے ایک اور اخبار نیوریج کے ایڈیٹر نور لکیرکا کہنا تھا کہ حملہ آور صحافیوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ ان جنگجوؤں نے جب اخبارات کو نذرِ آتش کیا تو فائر بریگیڈ کے آنے کے راستے بند کر دیے گئے جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ صحافیوں کو زندہ جلانا چاہتے تھے،کیونکہ حملہ آور ان اخبارات کے بیانیے سے اتفاق نہیں کرتے۔

اخبارات پر حملوں کی حکومت مخالف جماعتوں نے بھی مذمت کی۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج جمہوریت پر حملہ ہے۔ بنگلہ دیش میں پرتشدد گروہوں نے ہندوؤں کو بھی نشانہ بنایا، ہجوم نے کئی مندر جلا دیے اور ایک شخص اس حملے میں ہلاک بھی ہوا۔

بنگلہ دیش جو اس خطے کا سب سے ترقی کرنے والا ملک تھا، گزشتہ سال سے مسلسل بحرانوں کا شکار ہے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے کچھ حقائق کا ادراک ضروری ہے۔ بنگال کے لوگوں نے کبھی باہر سے آنے والوں کی آمریت کو قبول نہیں کیا تھا۔

مسلمان فاتحین نے 1204 میں بنگال کو فتح کیا، یوں بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا، مگر ہندوؤں کی بھی ایک بہت بڑی آبادی رہی۔ بدھ مت کے ماننے والے بھی اس خطے میں آباد ہیں۔ بنگلہ دیش دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے اور دریاؤں کی سرزمین کہلاتا ہے۔

مخصوص جغرافیائی حالات مسلسل بارشوں اور سیلابوں کی بناء پر بنگال کے عوام میں ہمیشہ سے حریت پسندی کا جذبہ موجود رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مغل بادشاہوں کی عمریں بنگال کو فتح کرنے میں گزریں۔ انگریزوں نے بنگال کے کسانوں پر لگان لگا کر اور مقامی صنعت ختم کر کے انھیں غربت کے سمندر میں دھکیل دیا تھا۔

بنگال میں گزشتہ صدی کے اوائل میں پڑنے والے قحط جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے، انگریز انتظامیہ کی پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ جب گزشتہ صدی میں بنگال کے مسلمانوں نے محسوس کیا کہ ہندو سود خور ان کی غربت کے ذمے دار ہیں تو پھر ڈھاکا میں مسلم لیگ قائم ہوئی اور بنگال کی اسمبلی نے پاکستان کے حق میں قرارداد منظورکی۔ 

1965میں محترمہ فاطمہ جناح کی صدارتی انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے شکست اور پھر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے بعد مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند قوتیں زور پکڑنے لگیں۔ ایوب خان کی حکومت نے طاقت سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔

تاریخ نے ثابت کیا کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہوا، اگر مغربی پاکستان کی تمام جماعتیں مشرقی پاکستان کے عوام کی حمایت کرتیں تو ایک کنفیڈریشن بن سکتی تھی۔ 

اگر ملائیشیا اور سنگا پور کی طرح مشرقی پاکستان کے عوام کے حق علیحدگی کو تسلیم کر لیا جاتا تو پھر بھارت کو بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع نہیں ملتا اور دسمبر 1971کے بحران نے جس انسانی المیہ کو جنم دیا وہ نہ ہوتا۔

عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں حکومت بنائی۔ شیخ مجیب الرحمن کی حکومت اچھی طرزِ حکومت سے محروم تھی۔ بنگلہ دیش میں فوج کے آپریشن میں وہ قتل ہوئے۔ جنرل ضیاء الرحمن، جنرل ارشاد، شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء کی حکومتیں قائم ہوئیں۔

شیخ حسینہ واجد نے طویل عرصے تک حکومت کی۔ انھوں نے اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے لیے انسانی حقوق پامال کیے۔ مخالفین کو لاپتہ کر کے انتخابات میں دھاندلی کے طریقے اپنائے اور ان کی حکومت عوام سے دور ہوگئی۔

شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے اپنے والد کے ساتھیوں ڈاکٹرکمال حسن وغیرہ کو معتوب کیا۔ دائیں اور بائیں بازو کے تمام مزاحمتی گروہوں کا کریک ڈاؤن کیا اور ایک عوامی احتجاج کی بناء پر انھیں اقتدار چھوڑ کر بھارت میں پناہ لینی پڑی مگر اس کے ساتھ کچھ اور حقائق بھی ہیں۔

اس دوران بنگلہ دیش نے ترقی کا نیا ماڈل قائم کیا۔ ریل اور سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا۔ سیلابوں اور طوفانوں سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے تعمیرات کی گئیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کم آمدنی والا ملک ہے جہاں ملی جلی معیشت ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نارمل ٹرم میں بنگلہ دیش دنیا کی 38 ویں معیشت ہے اور کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی 24 ویں معیشت کہی جاسکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں لیبر فورس کی تعداد 71.

4 ملین ہے۔ یہ لیبر فورس دنیا کی چھٹی لیبر فورس قرار دی گئی۔

اسی طرح 2023 میں بے روزگاری کی شرح 5 فیصد تھی۔ بنگلہ دیش میں عمر کی حد بڑھ کر 71 سال ہوگئی ہے۔ خواتین میں یہ شرح 74 سال ہے۔ بنگلہ دیش میں بالغوں میں خواندگی کا تناسب 76 فیصد سے 79 فیصد کے قریب ہے۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں خواندگی کا تناسب 16 فیصد کے قریب تھا۔

بنگلہ دیش بھارت سے ہر سال 2.700 MW بجلی خریدتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات خراب ہونے کے بعد بھارت نے اڈارنی پاور پلانٹ سے بجلی کی سپلائی بند کردی تھی۔ بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے بجلی کے بل ادا نہیں کیے۔

بھارت کی بجلی بند کرنے سے بنگلہ دیش میں 1.600 MW کی کمی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کے چین سے قریبی تعلقات ہیں۔ چین اقتصادی منصوبوں میں بنگلہ دیش کو امداد دے رہا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش کی معیشت کمزور ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے اس بارے میں محتاط رپورٹیں شایع کرتے ہیں۔ عالمی بینک کی گزشتہ دنوں معاشی اثرات کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی سال 2025کے لیے ملک کی معاشی نمو کے تخمینہ کو مزید گھٹا کر 3.3 فیصد کردیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے وسط میں سیاسی غیر یقینی اور سیلابوں کے نقصانات کی بناء پر زندگی گزرنے کے مصارف بڑھ گئے ہیں اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ ایک سروے میں 40 فیصد افراد مہنگائی کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

اس صورتحال میں مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں مگر مہنگائی مستقل بڑھتی جا رہی ہے۔ 

ڈاکٹر یونس کی حکومت نے فروری میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں نے ایک جمہوری چارٹر پر بھی اتفاق کیا ہے مگر خراب صورتحال میں فروری کے انتخابات کا انعقاد مشکوک ہوتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر یونس کی حکومت بنگلہ دیش میں مکمل امن و امان کے قیام میں ناکام رہی ہے۔ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کا مستقبل اس صورت میں روشن ہوسکتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوری ملک کی حیثیت سے برقرار رہے اور تمام پڑوسی ممالک سے اس کے تعلقات معمول پر آجائیں۔

کیونکہ بھارت یا کسی دوسرے ملک سے مخالفت کی صورت میں بنگلہ دیش کو فوجی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑے گا جس سے انسانی وسائل کی ترقی کے لیے مختص رقم کم کرنی پڑے گی اور ترقی پذیر ممالک کی تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کسی ملک نے فوج پر اخراجات بڑھائے تو وہ ملک فوج کے نرغے میں آیا۔ 

اگر بنگلہ دیش میں انتہا پسند مذہبی قوتیں برسر اقتدار آگئیں اور ان قوتوں نے بین الاقوامی صورتحال کا ادراک نہ کیا تو بنگلہ دیش کا موجودہ بحران کم نہیں ہوسکتا۔ 
 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش