اسلام ٹائمز: نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال، رویوں اور اخلاق کا جائزہ لیں، نیز اپنے حال کو بہتر بنائیں۔ ماضی کو سبق بنائیں اور مستقبل کیلئے امید رکھیں، مگر خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ انسان ہر دن کو شعور، عقیدہ اور اخلاق کی روشنی میں گزارا جائے۔ جو شخص حال میں خدا کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، اسکا ماضی نصیحت بن جاتا ہے اور مستقبل امید کا پیغام۔ ایسے انسان کی زندگی میں دین فقط کتاب نہیں، بلکہ کردار بن جاتا ہے اور یہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ سال جدید صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں، بلکہ اسکا آغاز شعور، عقیدہ، اخلاق اور دینی تعلیم کی تجدید کا دن ہونا چاہیئے۔ تحریر: محمد حسن جمالی

نیا سال حقیقت میں خود احتسابی اور فکری تجدید کا ایک سنجیدہ موقع ہے۔ یہ وہ  لمحہ ہوتا ہے، جس میں ہر انسان کو اس سوال پر غور کرنا چاہیئے کہ وہ اپنی زندگی میں کہاں کھڑا ہے۔؟ حال وہ واحد لمحہ ہے، جس میں انسان اپنے اعمال کو بہتر کرسکتا ہے، کیونکہ ماضی واپس نہیں آسکتا اور مستقبل خدا کے علم میں ہے۔ اس کے اختیار میں صرف حال ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت حال میں جینے سے قاصر رہتی ہے، وہ یا تو ماضی کے تلخ تجربات میں الجھ کر رہ جاتی ہے یا مستقبل کے خدشات میں مبتلا رہ جاتی ہے، جس سے وقت ضائع ہوتا اور فکری و اخلاقی ترقی رک جاتی ہے۔ اسلام انسان کو ہر لمحے کی اہمیت کا شعور دلاتا ہے اور اعمال کی ذمہ داری کی اہمیت سے واقف کراتا ہے۔ توجہ کیجئے حال میں جینا شعور کی علامت ہونے کے ساتھ دینی تعلیم کی عملی تصویر بھی ہے۔

دینی تعلیم انسان کے دل و دماغ کو روشن کرتی ہے۔ یہ اسے عبادت گزار یا رسمی پیروکار تک محدود نہیں رہنے دیتی، بلکہ وہ اسے ایک باشعور، ذمہ دار اور معاشرتی فرد بناتی ہے۔ علم، عقیدہ اور اخلاق انسان کو یہ شعور عطا کرتے ہیں کہ ہر عمل کی ایک قیمت اور اثر ہے۔ عقیدہ انسان کی سوچ اور عمل کی بنیاد ہے؛ اللہ پر ایمان، رسالت و امامت ائمہ ہدیٰ کا یقین اور آخرت پر بھروسہ زندگی میں استحکام، سکون اور مقصد فراہم کرتے ہیں۔ دینی تعلیم انسان کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ علم ذخیرہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ عمل میں لانے کے لیے ہے۔ عقیدہ اور عبادت کے بغیر علم صرف لفظوں کا مجموعہ رہ جاتا ہے، لیکن جب انسان اپنی سوچ، کردار اور رویوں کو درست کرتا ہے تو وہ حقیقی بصیرت اور حکمت کا حامل بن جاتا ہے۔ ایسے افراد کی زندگی میں ماضی کی غلطیاں سبق بن جاتی ہیں اور مستقبل کی فکر امید اور تیاری کی شکل اختیار کرتی ہے۔

دانا اور سمجھدار انسان وہ ہے، جو سال جدید کے آغاز میں ہی اپنی اصل قدر و قیمت کو پہچانتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹا سا جثہ ضرور ہے، لیکن اللہ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور عقل و ذمہ داری دی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی ذمہ داری صرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کی فکر کرنا نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے بھی فکرمند رہنا ہے اور اس کے اعمال دوسروں کے لیے خیر کا باعث بنتے ہیں۔ اصل دانائی یہی ہے کہ انسان خود کو پہچانے، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے، خدا کو پہچانے اور دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے، جو چاہتا ہے کہ لوگ اس سے کریں۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ انسان دینی درسگاہوں میں جائے، بلکہ کالج، یونیورسٹی یا کسی بھی علمی ماحول میں رہتے ہوئے بھی انسان دینی کتب کا مطالعہ کرکے اور علماء کی ہمنشینی اختیار کرکے قرآن و عترت کی تعلیمات سے بصیرت حاصل کرسکتا ہے۔

دینی تعلیم انسان کو عملی زندگی میں رہنمائی فراہم ہے۔ عبادات انسان کو خدا کے قریب لاتی ہیں اور حلال و حرام کا شعور نیز حقوق العباد کا ادراک انسانی معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے۔ نیا سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال، رویوں اور اخلاق کا جائزہ لیں، نیز اپنے حال کو بہتر بنائیں۔ ماضی کو سبق بنائیں اور مستقبل کے لیے امید رکھیں، مگر خوف میں مبتلا نہ ہوں۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ انسان ہر دن کو شعور، عقیدہ اور اخلاق کی روشنی میں گزارا جائے۔ جو شخص حال میں خدا کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، اس کا ماضی نصیحت بن جاتا ہے اور مستقبل امید کا پیغام۔ ایسے انسان کی زندگی میں دین فقط کتاب نہیں، بلکہ کردار بن جاتا ہے اور یہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔ سال جدید صرف تاریخ کی تبدیلی نہیں، بلکہ اس کا آغاز شعور، عقیدہ، اخلاق اور دینی تعلیم کی تجدید کا دن ہونا چاہیئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عقیدہ اور اخلاق بن جاتا ہے اور ہے کہ انسان دینی تعلیم اور مستقبل زندگی میں انسان کو تجدید کا سال جدید حال میں کے ساتھ جدید کا کے لیے خدا کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے