ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں: رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے، منڈیوں کو مستحکم رکھنے اور بروقت پالیسی اقدامات کے ذریعے کسانوں کی معاونت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل رابطے پر زور دیا ہے۔
وہ آج اسلام آباد میں ربیع 2025–26 کے لیے گندم کی کاشت کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل ویٹ اوور سائٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں اور موجودہ غذائی سال کے لیے قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔
کمیٹی نے صوبہ وار گندم کی کاشت کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ پنجاب میں گندم کی کاشت بروقت مکمل کی گئی ہے جس میں 90 فیصد ابتدائی کاشت شامل ہے۔
صوبے میں تصدیق شدہ بیج کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ یوریا کھاد کے استعمال میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بڑی وجہ بہتر دستیابی اور نسبتاً کم قیمتیں ہیں۔
ان عوامل کے باعث پیداوار میں اضافے اور بہتر گندم کی فصل کی توقع ہے، جو معیاری بیج اور کھاد کی فراہمی میں وفاقی وزارت کے معاون کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
سندھ میں بتایا گیا کہ گندم کی کاشت کی پیش رفت تسلی بخش ہے اور اہداف سے تجاوز کر چکی ہے۔
بلوچستان میں کم بارش کے باعث کاشت کی رفتار کم ہے تاہم آئندہ بارشوں کے بعد اس کمی کے پورا ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گندم کی بڑی مقدار کی کاشت مکمل ہو چکی ہے، تاہم برفانی علاقوں میں کاشت میں تاخیر ہے۔
مجموعی طور پر تمام صوبوں میں گندم کی کاشت کے اہداف حاصل ہونے کی توقع ہے۔
اشتہار
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گندم کی کاشت میں گندم کی کاشت کی کے لیے
پڑھیں:
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
سٹی 42: ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی لاہور پہنچ گئے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا۔
گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان ودیگرایئرپورٹ پر موجود تھے۔ایرانی وزیر داخلہ نے مزاراقبال اور دربار بی بی پاکدامن پر حاضری دی ۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر پنجاب سلیم حیدر خان بھی ہمراہ تھے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے مزار اقبال پر پھول رکھے ،امن و استحکام کیلئے دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی