اقوام متحدہ رپورٹ: پاکستان 2026 میں دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ پاکستان 2026 میں 22 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔
یو این ایف پی اے پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حقائق کے پیشِ نظر آبادی کو بوجھ کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سال 2026 کے تناظر میں یو این ایف پی اے نے مطالبہ کیا کہ خصوصی طور پر این ایف سی فارمولے میں قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ صرف آبادی کے حجم کو بنیادی پیمانہ بنانے کے بجائے ایک مستقبل نقطہ نظر اپنایا جانا چاہیے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادی نتائج اور صحت و تعلیم کی خدمات کے معیار میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مراعات دی جائیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق ایسی اصلاحات سے مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جدت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کے ساتھ عمل درآمد پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ پیش رفت کے باوجود کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یو این ایف پی اے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔