ڈیڑھ سو نئے ترقیاتی پروجیکٹ پر کام شروع ہوگیا ‘عبدالجمیل
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) لانڈھی ٹائون میں چاروں طرف ترقیاتی کا م کا جال بچھا رہے ہیں۔ سندھ حکومت جووسائل فراہم کررہی ہے اس سے بڑھ کر کام کررہے ہیں۔ سیوریج کے مسائل نوے فیصد حل کردیے ہیں۔ واٹر کارپوریشن پانی کی فراہمی کیلیے تعاون کرے۔ لانڈھی ٹائون میں ڈیڑھ سو سے زائد نئے ترقیاتی پروجیکٹ پر کام شروع ہوگیا ہے۔ گلی گلی میں پیور بلاک لگائے جارہے ہیں۔ یہ بات لانڈھی ٹائون کے چیئرمین عبدالجمیل خان نے لانڈھی ٹائون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وائس چیئرمین محمد عمران اور ٹائون میونسپل کمشنر سید امداد علی شاہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پراراکین کونسل کی جانب سے مختلف امور پر قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔ عبدالجمیل خان نے کہا کہ لانڈھی ٹائون کے تحت تمام یونین کونسل میں بلاتفریق ترقیاتی کام جاری ہیں اور ہر یوسی کی گلیوں اور اہم مقامات پرپیور بلاک لگائے جارہے ہیں۔ عبدالجمیل خان نے کہا کہ لانڈھی ٹائون میں آج چاروں طرف ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ ہم دیانت داری کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ جلد لانڈھی ٹائون کراچی کا ماڈل بنے گا۔ عوام تعاون کریں۔ سولڈ ویسٹ اور واٹر کارپوریشن کو اگر بلدیاتی اداروں کے حوالے کردیا جائے تو کراچی کے پچاس فیصد مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لانڈھی ٹائون
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔