data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-03-3
وہ علاقہ مکمل طور پر شہری نوعیت کا تھا اور اس میں وہ خاندان رہائش پزیر تھا جس کو اپنے گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا، اس گھر میں خاندان کے 16 افراد اس وقت ایک ہی کمرے میں موجود تھے جو شادی کی تقریب میں عشائیے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ شادی عبداللہ ابو نحل کی تھی جو 26 برس کا دولہا تھا اور اس کی کزن مریم جو بیس برس کی دلہن تھی۔ عبداللہ ابراہیم ابو نحل کا بیٹا تھا وہ شادی کی اس تقریب میں دور سے آیا تھا اس علاقے میں جہاں ارد گرد دور تک کسی قسم کا اسلحہ یا فوجی موجودگی نہیں تھی قابض اسرائیل کے طیاروں نے ہلاکت خیز حملہ کیا اور صرف چند لمحوں میں اس مقام کو نیست و نابود کر دیا سارے لوگ شہید ہو گئے سوائے ایک 16 سالہ بچے اسامہ ابراہیم کے جو دھماکے سے دور اچھل کر گرا۔ جس کا سارا جسم زخموں سے چور تھا اس نے بتایا کہ ہم سب شادی کی خوشی میں بیٹھے تھے اور اچانک بغیر کسی انتباہ کے میزائل ہم پر آ گرے اور میرے سارے ساتھی، بہن بھائی اور والدین سب شہید ہو گئے۔ اس چھوٹے سے گھر کو تباہ کرنے کے لیے دو انتہائی بھاری بم استعمال کیے گئے تھے اور ہر بم کا وزن 900 کلوگرام تھا یہ امریکا میں تیار کیے گئے تھے یعنی امریکی اسلحہ تھا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قابض اسرائیل ایک شہری گھر کو تباہ کرنے کے لیے کس قدر زیادہ قوت استعمال کرتا ہے۔
یورو میڈیٹیرین مانیٹر نے وضاحت کی کہ بم اس قدر زیادہ طاقتور اور شدت کے تھے کہ دھماکے کی شدت سے زمین لرز گئی اور انسانی جسم ٹکڑوں میں بٹ گئے اور وہ ٹکڑے آس پاس کے علاقے حتیٰ کہ قریبی گھروں کی چھتوں تک پہنچ گئے۔ یورپی ہیومن رائٹس نے بتایا کہ ایک مکمل شہری ہدف کو بغیر کسی وارننگ کے اتنے طاقت ور بموں سے نشانہ بنانا اس بات کی وضاحت ہے کہ پہلے سے قتل کی نیت موجود تھی اور یہ جرم اصل میں پہلے سے سوچا سمجھا تھا یہ جنگ انسانیت کے خلاف جرم ہے اور نسل کشی کا ایک انتہا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ قابض اسرائیلی فوج سیز فائر معاہدے کے بعد مسلسل 81 دفعہ سنگین خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں توپ خانوں اور طیاروں سے بمباری کے ذریعے گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور فضائی حملوں کا سلسلہ تیز ہے۔
یہ کیسا سیزفائر ہے؟؟ اس قدر خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کا حق دفاع محفوظ ہے روز فلسطینیوں کی شہادت خبریں آتی ہیں خاص طور سے بے گناہ خواتین اور بچوں کی شادیوں کے موقع پہ۔۔۔ ابھی ایک ہفتے پہلے بھی قابض اسرائیل نے ایک شادی کی خوشی کے موقع پر بمباری کی اور چھے فلسطینیوں کو شہید کر دیا ظلم کی انتہا یہ ہے کہ سول دفاع کے عملے کو مقام تک پہنچنے کے لیے روک دیا اور شدید فائرنگ کرتے رہے یہ قابض اسرائیل کا انتہائی ظلم ہے، جس میں امریکا ساتھ شریک ہے۔ شاباش کے طور پر امریکا نے جدید طیارے اور مہلک بم تحفے کے طور پر بھیج دیے۔ پھر بھی صدر ٹرمپ کے نزدیک اسرائیلی فوج امن منصوبے اور سیز فائر پر 100 فی صد عمل کر رہا ہے۔
سات اکتوبر 2025 کے بعد اعلان شدہ جنگ بندی کے باوجود 395 فلسطینی شہید اور ایک ہزار 81 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 634 شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں یہ سیز فائر کے بعد ہوا ہے اور ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نے مکمل طور پر 100 فی صد سیز فائر کیا ہے، البتہ وہ دوسری طرف سے اس بارے میں مشکوک ہیں۔ ٹرمپ کو منصوبے کے دوسرے مرحلے کے شروع کرنے کی جلدی ہے۔
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے تجزیہ نگار اس سلسلے میں نیتن یاہو کو تاخیر کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں اس سے پہلے کہ اسرائیلی فوج کا انخلا ہو۔ حماس کا موقف یہ ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے عمل کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط قرار دے رہا ہے۔ ٹرپ ان کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالتے تو کئی ممالک جن کی تعداد ہمارے پاس 59 کی تعداد میں ہے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ قابض اسرائیل نے تمام سرخ لکیر پامال کی ہیں اور عالمی معاہدہ کو روند ڈالا ہے لہٰذا ہم اپنے عوام کے دفاع کا حق رکھتے ہیں اور جب تک قبضہ باقی ہے ہم اپنے ہتھیار نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔ خواہ اس کے لیے ہمیں ناخنوں ہی سے کیوں نہ لڑنا پڑے۔ رفاہ کے بہادر مرد اس کی زندہ مثالیں جنہوں نے ہتھیار ڈالنے پر شہادت کو ترجیح دی وہ اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کو اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی بشارت کا یقین دلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔۔ ایک طرف ہم غزہ کے لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ غزہ کی عظیم شخصیات شہادت کی منصب پر فائض ہو چکی ہیں اس میں وہ بھی جن کو آپ جسے لاکھوں لوگوں نے محبت سے دیکھا وہ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ ہیں آج ہم انہیں اپنے عوام کے سامنے ان کے حقیقی نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت ابو ابراہیم کے نام کے ساتھ پیش کرتے ہیں وہ اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گئے ہیں لہٰذا اب وہ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کے نام سے موجود ہیں جو غزہ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تمہاری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم مل کر تباہ شدہ غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور ہم اللہ کے وعدے پہ یقین رکھتے ہیں کہ فتح یا شہادت ہمارا مقدر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج قابض اسرائیل سیز فائر شادی کی کے لیے رہا ہے ہیں کہ
پڑھیں:
اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقامات کو ساتھ ہی خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے، اور خاص طور پر لبنان کے بیوفورٹ قلعہ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب فلسطینی اور لبنانی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
یونیسکو کی کمیٹی نے لبنان کے قدیم شہر صور کو بھی تنازع اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔