Jasarat News:
2026-06-02@22:15:29 GMT

فتح یا شہادت

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-03-3
وہ علاقہ مکمل طور پر شہری نوعیت کا تھا اور اس میں وہ خاندان رہائش پزیر تھا جس کو اپنے گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا، اس گھر میں خاندان کے 16 افراد اس وقت ایک ہی کمرے میں موجود تھے جو شادی کی تقریب میں عشائیے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ شادی عبداللہ ابو نحل کی تھی جو 26 برس کا دولہا تھا اور اس کی کزن مریم جو بیس برس کی دلہن تھی۔ عبداللہ ابراہیم ابو نحل کا بیٹا تھا وہ شادی کی اس تقریب میں دور سے آیا تھا اس علاقے میں جہاں ارد گرد دور تک کسی قسم کا اسلحہ یا فوجی موجودگی نہیں تھی قابض اسرائیل کے طیاروں نے ہلاکت خیز حملہ کیا اور صرف چند لمحوں میں اس مقام کو نیست و نابود کر دیا سارے لوگ شہید ہو گئے سوائے ایک 16 سالہ بچے اسامہ ابراہیم کے جو دھماکے سے دور اچھل کر گرا۔ جس کا سارا جسم زخموں سے چور تھا اس نے بتایا کہ ہم سب شادی کی خوشی میں بیٹھے تھے اور اچانک بغیر کسی انتباہ کے میزائل ہم پر آ گرے اور میرے سارے ساتھی، بہن بھائی اور والدین سب شہید ہو گئے۔ اس چھوٹے سے گھر کو تباہ کرنے کے لیے دو انتہائی بھاری بم استعمال کیے گئے تھے اور ہر بم کا وزن 900 کلوگرام تھا یہ امریکا میں تیار کیے گئے تھے یعنی امریکی اسلحہ تھا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قابض اسرائیل ایک شہری گھر کو تباہ کرنے کے لیے کس قدر زیادہ قوت استعمال کرتا ہے۔

یورو میڈیٹیرین مانیٹر نے وضاحت کی کہ بم اس قدر زیادہ طاقتور اور شدت کے تھے کہ دھماکے کی شدت سے زمین لرز گئی اور انسانی جسم ٹکڑوں میں بٹ گئے اور وہ ٹکڑے آس پاس کے علاقے حتیٰ کہ قریبی گھروں کی چھتوں تک پہنچ گئے۔ یورپی ہیومن رائٹس نے بتایا کہ ایک مکمل شہری ہدف کو بغیر کسی وارننگ کے اتنے طاقت ور بموں سے نشانہ بنانا اس بات کی وضاحت ہے کہ پہلے سے قتل کی نیت موجود تھی اور یہ جرم اصل میں پہلے سے سوچا سمجھا تھا یہ جنگ انسانیت کے خلاف جرم ہے اور نسل کشی کا ایک انتہا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ قابض اسرائیلی فوج سیز فائر معاہدے کے بعد مسلسل 81 دفعہ سنگین خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہیں توپ خانوں اور طیاروں سے بمباری کے ذریعے گھروں کو تباہ کیا جا رہا ہے اور فضائی حملوں کا سلسلہ تیز ہے۔

یہ کیسا سیزفائر ہے؟؟ اس قدر خلاف ورزی ہو رہی ہے اس کے باوجود کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کا حق دفاع محفوظ ہے روز فلسطینیوں کی شہادت خبریں آتی ہیں خاص طور سے بے گناہ خواتین اور بچوں کی شادیوں کے موقع پہ۔۔۔ ابھی ایک ہفتے پہلے بھی قابض اسرائیل نے ایک شادی کی خوشی کے موقع پر بمباری کی اور چھے فلسطینیوں کو شہید کر دیا ظلم کی انتہا یہ ہے کہ سول دفاع کے عملے کو مقام تک پہنچنے کے لیے روک دیا اور شدید فائرنگ کرتے رہے یہ قابض اسرائیل کا انتہائی ظلم ہے، جس میں امریکا ساتھ شریک ہے۔ شاباش کے طور پر امریکا نے جدید طیارے اور مہلک بم تحفے کے طور پر بھیج دیے۔ پھر بھی صدر ٹرمپ کے نزدیک اسرائیلی فوج امن منصوبے اور سیز فائر پر 100 فی صد عمل کر رہا ہے۔

سات اکتوبر 2025 کے بعد اعلان شدہ جنگ بندی کے باوجود 395 فلسطینی شہید اور ایک ہزار 81 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 634 شہداء کی لاشیں نکالی گئی ہیں یہ سیز فائر کے بعد ہوا ہے اور ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نے مکمل طور پر 100 فی صد سیز فائر کیا ہے، البتہ وہ دوسری طرف سے اس بارے میں مشکوک ہیں۔ ٹرمپ کو منصوبے کے دوسرے مرحلے کے شروع کرنے کی جلدی ہے۔

منصوبے کے دوسرے مرحلے میں غزہ میں ٹیکنوکریٹ حکومت کا قیام اور حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنا اور اسرائیلی فوج کا انخلا شامل ہے تجزیہ نگار اس سلسلے میں نیتن یاہو کو تاخیر کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ حماس کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں اس سے پہلے کہ اسرائیلی فوج کا انخلا ہو۔ حماس کا موقف یہ ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے عمل کو فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط قرار دے رہا ہے۔ ٹرپ ان کو دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر وہ ہتھیار نہیں ڈالتے تو کئی ممالک جن کی تعداد ہمارے پاس 59 کی تعداد میں ہے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ قابض اسرائیل نے تمام سرخ لکیر پامال کی ہیں اور عالمی معاہدہ کو روند ڈالا ہے لہٰذا ہم اپنے عوام کے دفاع کا حق رکھتے ہیں اور جب تک قبضہ باقی ہے ہم اپنے ہتھیار نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے۔ خواہ اس کے لیے ہمیں ناخنوں ہی سے کیوں نہ لڑنا پڑے۔ رفاہ کے بہادر مرد اس کی زندہ مثالیں جنہوں نے ہتھیار ڈالنے پر شہادت کو ترجیح دی وہ اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کو اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی بشارت کا یقین دلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔۔ ایک طرف ہم غزہ کے لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ غزہ کی عظیم شخصیات شہادت کی منصب پر فائض ہو چکی ہیں اس میں وہ بھی جن کو آپ جسے لاکھوں لوگوں نے محبت سے دیکھا وہ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ ہیں آج ہم انہیں اپنے عوام کے سامنے ان کے حقیقی نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت ابو ابراہیم کے نام کے ساتھ پیش کرتے ہیں وہ اپنے ربّ کے حضور حاضر ہو گئے ہیں لہٰذا اب وہ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کے نام سے موجود ہیں جو غزہ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تمہاری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم مل کر تباہ شدہ غزہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور ہم اللہ کے وعدے پہ یقین رکھتے ہیں کہ فتح یا شہادت ہمارا مقدر ہے۔

غزالہ عزیز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج قابض اسرائیل سیز فائر شادی کی کے لیے رہا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان