data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-08-31
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) اسرائیل کا ابوعبیدہ سمیت حماس کے کئی مجاہدین کو شہید کر دینا بدترین درندگی ہے۔ مسلم ممالک کسی ایسے منصوبے کا حصہ نہ بنیں جس سے ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو تقویت حاصل ہو۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کی مسلح ونگ کے ترجمان اور مجاہد ابوعبیدہ اور غزہ میں حماس کے سربراہ محمد سنوار کو اسرائیل نے نسل کشی کی جنگ میں چند ماہ قبل شہیدکر دیا تھا۔ پھر یہ کہ القسام بریگیڈز نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ رفح بریگیڈ کے سربراہ محمد شابانہ اور دو دیگر رہنما حاکم العیسی اور رائدسعد بھی جنگ بندی معاہدہ کے باوجود اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں شہید کر دیے گئے ہیں۔ شہید ابوعبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکہلوت تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد سنوار شہید اور حذیفہ الکہلوت اپنے پیش رووں کی طرح غیرمعمولی فہم و بصیرت کے حامل رہنما اور مجاہد تھے۔ انہوں نے نہایت کٹھن مرحلے میں کتائب القسام کو سہارا دیا اور مسجد اقصی کی حرمت کے لیے اپنی جانیں قربان کردیں۔ غزہ کے مسلمان مسلسل قربانیاں دے کر ارض فلسطین اور مسجد اقصی کی حفاظت کے لیے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں، جو دیگر مسلم ممالک کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔ امیرتنظیم نے کہا کہ مسلم ممالک کا یہ دینی فریضہ ہے کہ اسرائیل، جو ایک ناجائز صہیونی ریاست اور فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کرکے قائم کی گئی تھی، اس کو تقویت پہنچانے کے کسی معاہدہ یا ٹاسک فورس کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ فلوریڈا میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات جس میں مسلم ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ حماس کو غیر مسلح کریں کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ مسلم ممالک آپس کے اختلافات کو ختم کرکے متحد ہوں۔ ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے توسیعی منصوبہ گریٹر اسرائیل کے راستے میں مضبوط دیوار بن جائیں۔ فلسطینی مسلمانوں کی عملی مدد کے لیے اقدامات کریں اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل جو درحقیقت مقبوضہ فلسطین ہے کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات کریںاسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کامیابی مضمر ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ناجائز صہیونی ریاست مسلم ممالک کے لیے

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم