ٹرمپ کے فیصلے کا جواب، مالی اور برکینا فاسو کا امریکی شہریوں پر سفری پابندی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اس سے قبل بھی خطے کے دیگر ممالک نے امریکی سفری پابندیوں کے جواب میں ایسے اقدامات کیے ہیں۔ 25 دسمبر کو نائیجر نے امریکی شہریوں کو ویزے جاری کرنے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ جون میں چاڈ نے بھی امریکا کی جانب سے سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکی شہریوں کے لیے ویزا معطل کر دیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ مغربی افریقہ کے ممالک مالی اور برکینا فاسو نے امریکی شہریوں کے سفر پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان ممالک کو سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی وزارتِ خارجہ نے منگل کی شب جاری الگ الگ بیانات میں کہا کہ یہ اقدام "باہمی ردِعمل" کے اصول کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے 16 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ صدر ٹرمپ مالی، برکینا فاسو اور پانچ دیگر ممالک کو مکمل سفری پابندی کی فہرست میں شامل کر رہے ہیں، جس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ پابندی ان ممالک پر لگائی گئی ہے، جہاں اسکریننگ، جانچ پڑتال اور معلومات کے تبادلے کے نظام میں سنگین اور مسلسل خامیاں پائی جاتی ہیں، جو امریکی قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
مالی کی حکومت نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے قبل ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور امریکی مؤقف زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ برکینا فاسو نے بھی امریکی اقدام کو یکطرفہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی خطے کے دیگر ممالک نے امریکی سفری پابندیوں کے جواب میں ایسے اقدامات کیے ہیں۔ 25 دسمبر کو نائیجر نے امریکی شہریوں کو ویزے جاری کرنے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جبکہ جون میں چاڈ نے بھی امریکا کی جانب سے سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکی شہریوں کے لیے ویزا معطل کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سفری پابندی کی فہرست میں امریکی شہریوں برکینا فاسو اعلان کیا نے امریکی کا اعلان
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔