نادرا نے شہریوں کو فنگر پرنٹس کے مسائل سے نجات دلانے کے لیے ایک اہم سہولت فراہم کی ہے۔ اب بزرگ شہری یا وہ افراد جو طبی مسائل کی وجہ سے فنگر پرنٹس کی تصدیق میں دشواری محسوس کرتے تھے، چہرے کی شناخت کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کروا سکیں گے۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایات پر قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کی گئی ہے اور اب پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی چہرے کی شناخت سے بائیومیٹرک سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اس سہولت کا آغاز 20 جنوری سے تمام نادرا مراکز میں ہو گا، جہاں شہری معمولی فیس کے عوض چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔ اگر کسی شہری کے فنگر پرنٹس کی تصدیق ممکن نہ ہو سکے تو وہ قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جا کر یہ سرٹیفکیٹ جاری کروا سکتا ہے۔
یہ سرٹیفکیٹ تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ کے ساتھ جاری ہوگا اور سات دن تک قابل استعمال ہوگا۔
نادرا کا کہنا ہے کہ یہ نظام مکمل طور پر تیار ہے اور تمام متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو ضروری اقدامات کے لیے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ 20 جنوری کے بعد شہری اس سہولت سے متعلق کسی بھی شکایت کے لیے متعلقہ ادارے سے رابطہ کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چہرے کی شناخت ا ئی ڈی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو