اسلام آباد:

فنگر پرنٹس کے معاملے میں شہریوں کو دشواریاں پیش آنے کے بعد نادرا نے بڑی سہولت متعارف کروا دی۔

نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغاز کردیا گیا ہے، جس کے بعد بزرگوں یا طبی مسائل کے باعث شہریوں کو فنگرپرنٹس کی تصدیق میں دشواری کا مسئلہ ختم ہوگیا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی ہدایت پر نادرا نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کے ذریعے بائیومیٹرک کی تعریف وسیع کر دی گئی ہے اور پاک آئی موبائل ایپ پر چہرے کی شناخت سے بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں 20 جنوری سے تمام نادرا مراکز میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کا اجرا ہو گا، جہاں شہری ضرورت پڑنے پر معمولی فیس کے عوض سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے ۔ فنگر پرنٹس کی تصدیق نہ ہونے پر شہری قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز جائے گا اور چہرے کی شناخت کی کارروائی مکمل ہونے پر نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔

اس پر تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ ہوگا۔ یہ سرٹیفکیٹ 7 دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا۔

ترجمان کے مطابق نادرا اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس حوالے سے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں سے ضروری اقدامات کی درخواست کر دی گئی ہے۔ 20 جنوری کے بعد اس سہولت کی دستیابی سے متعلق شکایت پر متعلقہ ادارے یا محکمے کو شکایت کی جا سکے گی۔

ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد یہ سہولت پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چہرے کی شناخت کے بعد

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار