امریکی فوجیوں کے علاوہ، فرانس، آسٹریلیا اور برطانیہ کی افواج بھی اس عسکری الائنس کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک یونٹ نیٹو کے مشن کے تحت عراق میں موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دہشت گردی کے خلاف عراقی آپریشنل کمانڈ کے ڈپٹی چیف، جنرل "قیس المحمداوی" نے خبر دی کہ بین الاقوامی عسكری اتحاد آئندہ ہفتے "عین الاسد" بیس کیمپ سے چلا جائے گا۔ انخلاء کا یہ عمل رواں ہفتے مكمل ہو جائے گا۔ اس موقع پر جنرل قیس المحمداوی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سال 2025ء میں ہمیں بڑی سکیورٹی کامیابیاں حاصل ہوئیں اور دہشت گردانہ کارروائیاں کافی حد تک کم ہوگئیں۔ رواں سال ڈرون حملوں میں 39 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور عراق کی سرحدوں میں دراندازی صفر فیصد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ایک کارروائی میں داعش کا دہشت گرد "ابوخدیجہ" بھی مارا گیا جو والی داعش کے نام سے مشہور تھا۔ وسیع انٹیلیجنس اور میدانی سرگرمیوں کے نتیجے میں داعش کے کافی عناصر ہلاک ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سال 2026ء میں دیگر صوبوں کی سکیورٹی فائل، وزارت داخلہ کے سپرد کر دی جائے گی اور ہم علاقوں میں سکیورٹی کنٹرول کے لئے پیشگی تعاون کریں گے۔ واضح رہے کہ اس وقت عالمی انسدادِ دہشتگردی فارمولے کے تحت، واشنگٹن کی جانب سے تقریباً 2500 امریکی فوجی، عراق میں موجود ہیں۔ مذکورہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ ستمبر 2014 میں لاگو ہوا تھا۔ جس کے تحت بین الاقوامی افواج 3 بڑے اڈوں پر تعینات ہیں۔ صوبہ الانبار میں عین الاسد بیس، اربیل میں حریر کیمپ اور بغداد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قریب وکٹوریا کیمپ پر۔ امریکی فوجیوں کے علاوہ، فرانس، آسٹریلیا اور برطانیہ کی افواج بھی اس عسکری الائنس کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک یونٹ نیٹو کے مشن کے تحت عراق میں موجود ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے علاوہ کے تحت

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار