پنجاب حکومت دوغلی پالیسیوں کا شکار ہوچکی ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-05-3
لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت شدید تضادات اور دوغلی پالیسیوں کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک طرف موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ نہ پہننے پر بھاری جرمانے اور ایف آئی آرز دی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب بسنت جیسے جان لیوا تہوار کی اجازت دے کر شہریوں، بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو کھلے عام خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلے پر ڈور پھرنے سے دو سالہ معصوم بچی زینب فاطمہ اور 22 سالہ نوجوان محمد اویس کے زخمی ہونے کے واقعات حکومتی غفلت کا واضح ثبوت ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان معصوم جانوں کا مجرم کون ہے؟ صرف پر ڈور بنانے اور استعمال کرنے والے یا وہ حکومت جو جان بوجھ کر ایسے تہوار کی اجازت دے کر ان حادثات کی راہ ہموار کرتی ہے؟ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ماضی میں بھی بسنت کے مواقع پر ایسے جان لیوا حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔ بسنت کو ثقافت کے نام پر دوبارہ زندہ کرنا درحقیقت عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر 6 تا 8 فروری کے دوران بسنت کے باعث کوئی بھی جانی یا مالی نقصان ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ پنجاب پر عائد ہو گی۔ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔محمد جاوید قصوری نے مطالبہ کیا کہ بسنت جیسے جان لیوا تہوار پر فوری اور مکمل پابندی عائد کی جائے، پر ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ جماعت اسلامی عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔