سال 2026:ملک بھر کی مساجد میں ملکی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:پاکستان میں نئی امنگوں، امیدوں اور دعاؤں کے ساتھ سال 2026 کا پہلا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگیا۔
شہریوں نے نئے سال کے پہلے طلوع آفتاب کا نظارہ کرنے کے لیے ساحلی علاقوں، پارکوں اور کھلے مقامات کا رخ کیا اور اس یادگار لمحے کو کیمروں کی آنکھ میں محفوظ کیا۔
نئے سال کے آغاز پر ملک بھر کی مساجد میں ملکی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں،علما کرام نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کرے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے۔
مسلمان کھلاڑی کی نیوزی لینڈ دورہ سے قبل طوفانی سینچری،بھارتی سلیکٹرز کو کھلا پیغام
شہریوں کا کہنا ہے کہ پوری قوم 2026 میں ملک کی معاشی بہتری کے لیے پُرامید ہے،عوام نے دعا کی کہ نیا سال سب کے لیے خوشیاں، سکون اور ترقی لے کر آئے اور یہ سال نئی امیدوں، حوصلوں اور کامیابیوں کا سال ثابت ہو۔
لوگوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مثبت سوچ اور محنت کے ساتھ نئے سال کا آغاز کر رہے ہیں، جبکہ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ 2026 میں وہ تمام خواب پورے ہوں گے جو گزشتہ برس ادھورے رہ گئے تھے۔
بالائی علاقوں میں بارش برفباری ؛ محکمہ موسمیات نے اہم الرٹ جاری کردیا
یاد رہے کہ رات 12 بجتے ہی ملک بھر میں آتش بازی اور جشن کا سلسلہ شروع ہوا، کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شاندار آتش بازی کی گئی، نئے سال کی خوشی میں منچلے ہلہ گلہ کرنے سڑکوں پر نکل آئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔