نیو ایئر پر مری میں برفباری، انتظامیہ کے سخت حفاظتی اقدامات
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی مری میں موسم سرما کی پہلی برفباری نے اس سیاحتی مقام کی رونق دوبالا کردی ہے۔
پہاڑوں اور وادیوں پر برف کی سفید چادر بچھتے ہی سیاحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جو نیو ایئر نائٹ پر خصوصی طور پر مری میں موجود تھے۔
برف باری کے دوران باہر نکلے سیاح خوشی سے جھوم اٹھے اور جہاں قدرتی حسن سے بھرپور مناظر کو کیمروں کی آنکھ میں محفوظ کرنے میں مصروف نظر آئے، وہیں بعض نے آگ جلا کر رقص بھی کیا۔
سیاحوں کے غیر معمولی رش کے باعث ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے فول پروف انتظامات کیے تھے۔
انتظامیہ کی جانب سے پھلگراں اور سترہ میل ٹول پلازہ پر رکاوٹیں قائم کر کے سینکڑوں گاڑیوں کو مزید آگے جانے سے روک دیا گیا، جبکہ مقامی شہریوں کو بھی عارضی طور پر ٹول پلازہ سے آگے جانے کی اجازت نہ دی گئی۔
انتظامیہ کے مطابق یہ اقدامات شہریوں اور سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔
نیو ایئر نائٹ پر مسلسل برفباری کے باعث چیف ٹریفک آفیسر مری کی جانب سے جاری تفصیلی ٹریفک ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پھسلن زدہ سڑکوں پر سفر کے دوران ٹائر چین کا استعمال لازمی کیا جائے، گاڑیوں کو سڑک کنارے پارک کرنے کے بجائے صرف مقررہ پارکنگ ایریاز میں کھڑا کیا جائے۔
دوسری جانب موٹروے پولیس نے مری ایکسپریس وے پر اضافی نفری اور گاڑیاں تعینات کر دی ہیں۔ موٹروے پولیس کے مطابق برفباری کے باوجود ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام مشینری متحرک ہے۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ موسمی حالات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، رفتار کم رکھیں اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برف باری ٹریفک مری نیو ایئر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹریفک نیو ایئر نیو ایئر
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔