16 سال کی عمر میں ٹرین کے اندر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا، ملکہ برطانیہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
برطانیہ کی ملکہ کمیلا نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں کم عمری میں ایک اجنبی شخص کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے یہ واقعہ بی بی سی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بیان کیا۔
ملکہ کمیلا نے بتایا کہ نوجوانی کے زمانے میں وہ ایک دن ٹرین میں سفر کر رہی تھیں اور کتاب پڑھ رہی تھیں کہ اسی دوران ٹرین میں موجود ایک اجنبی شخص نے اچانک ان پر حملہ کیا اور انہیں ہراساں کرنے لگا۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل لمحے میں انہیں اپنی والدہ کی نصیحت یاد آئی، جس کے بعد انہوں نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا، جوتا اتار کر حملہ آور کو دے مارا اور مزاحمت کے بعد فوراً ٹرین سے اتر گئیں۔
ملکہ کمیلا کے مطابق اس وقت ان کی عمر تقریباً 16 یا 17 سال تھی اور یہ واقعہ کئی برسوں تک ان کے لیے ذہنی صدمے کا باعث بنا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی گھریلو تشدد یا ہراسانی کے موضوع پر بات ہوتی ہے تو یہ واقعہ انہیں دوبارہ یاد آ جاتا ہے، جو آج بھی انہیں پریشان کر دیتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔