سلیم جاوید کا مداحوں کیلئے نئے سال پر خصوصی تحفہ، نیا بلوچی گیت ریلیز
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
جگنی کے ذریعے عالمی سطح پر شناخت حاصل کرنے والے ماضی کے مقبول گلوکار سلیم جاوید نے نئے سال کے موقع پر اپنے مداحوں کیلئے ایک خاص تحفہ پیش کر دیا۔ سلیم جاوید نے مقبول بلوچی گیت کو نئی دھن، نئے انداز اور جدید موسیقی کے رنگ میں ڈھال کر ایک بار پھر شائقینِ موسیقی کی توجہ حاصل کر لی۔ نیا بلوچی گیت ریلیز ہوتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے جہاں شائقین نہ صرف اسے بھرپور انداز میں شیئر کر رہے ہیں بلکہ اس کی دلکش دھن، جدید پیشکش اور ثقافتی رنگوں کو بھی خوب سراہا جا رہا ہے، گلوگار نے خود اس گیت کو اپنے مداحوں کے لیے نئے سال کا خصوصی تحفہ قرار دیا ہے۔ یہ تازہ ریلیز سلیم جاوید اور بلوچی موسیقی کے درمیان اس گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے جو ان کے فن کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً چالیس برس قبل ریلیز ہونے والا ان کا پہلا البم بھی ایک بلوچی گیت کے باعث غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار ہوا تھا تاہم اب ایک بار پھر وہ اسی موسیقی کی طرف لوٹے ہیں۔ نئے گیت کی ویڈیو میں جدید بصری تکنیک، نئی کہانی اور نوجوان نسل کی پسند کے عناصر شامل کیے گئے ہیں جبکہ بلوچی لوک موسیقی کی اصل روح کو بھی برقرار رکھا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ گیت پرانے مداحوں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو بھی اپنی جانب متوجہ کر رہا ہے۔ سلیم جاوید کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر روایتی موسیقی کو تخلیقی اور جدید انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ہر دور میں زندہ رہ سکتی ہے، جدت اور تجربہ ہمیشہ ان کے موسیقی کے سفر کا بنیادی حصہ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سلیم جاوید کو عالمی شہرت دلانے والا لوک گیت جگنی آج بھی ان کی پہچان سمجھا جاتا ہے، وہ پاکستان میں ریمکس موسیقی متعارف کرانے والے اولین فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے کلاسیکل دھنوں کو جدید انداز میں پیش کر کے نئی نسل سے جوڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سلیم جاوید رہا ہے
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔