غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین، اسرائیل نے 37 امدادی این جی اوز پر پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں پر 37 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر پابندی جمعرات سے نافذ کر دی جائے گی۔ یورپی یونین اور کئی عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے غزہ کے متاثرہ عوام تک اہم انسانی امداد کی رسائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی وزارتِ امورِ تارکینِ وطن کے ترجمان گیلاد زویک کے مطابق یہ تنظیمیں اپنے فلسطینی ملازمین کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر رہی ہیں، جو نئے قوانین کے تحت لازمی قرار دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام این جی اوز کو مقررہ معیارات پر مکمل اور شفاف طور پر پورا اترنا ہوگا، کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب حماس نے ان قوانین کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل انسانی امداد کو سیاست کا شکار بنا رہا ہے اور اسے فلسطینی عوام کے خلاف دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے۔
مزید پڑھیںغزہ میں بارش اور سردی نے قیامت ڈھا دی، ہزاروں خیمے پانی میں ڈوب گئے، سردی سے اموات کا خدشہ
بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز (MSF) نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 2026 میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں کام جاری رکھنے کے لیے تنظیم کی رجسٹریشن یقینی بنائے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انسانی امداد کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یورپی یونین کی انسانی امداد سے متعلق کمشنر حجہ لحبیب نے کہا ہے کہ این جی اوز سے متعلق اسرائیلی قانون اپنی موجودہ شکل میں قابلِ عمل نہیں اور امداد ہر صورت ضرورت مندوں تک پہنچنی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امدادی تنظیموں پر پابندیاں غزہ کی پہلے سے تباہ حال انسانی صورتحال کو مزید خراب کر دیں گی۔
برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جاپان، ناروے، سویڈن اور دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحدی گزرگاہیں کھولے، غیر ضروری پابندیاں ختم کرے اور اقوام متحدہ و این جی اوز کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔